Thursday, October 10, 2019

عقلمند چڑیا اور بے وقوف شکاری || سبق آموز واقعہ || Urdu Moral Stoty ||

ایک چڑیا اور بے وقوف شکاری

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ھے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ھی کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی
جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی ھی کرونگی.. جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سےاڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. “اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ھوا کہ ناجانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے گی.. اس نے چڑیا کی بات مانتے ھوئے اس سے پوچھا.. ” تم مجھے پہلی نصیحت کرو ‘ پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا.. “چنانچہ چڑیا نے کہا.. ” میری پہلی نصیحت تو یہ ھے کہ” جو بات کبھی نہیں ھو سکتی اسکا یقین مت کرنا.. “یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی.. ” میری دوسری نصیحت یہ ھے کہ “جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا..”اور پھر کہنے لگی.. ” اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی.. کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ھے.. اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدر دولت حاصل ھوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ھوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ھو جاتے.. “اس شخص نے جو یہ بات سنی تو لگا
افسوس کرنے.. اور پچھتایا.. کہ اس چڑیا کو چھوڑ کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں..چڑیا نے جو اسے اسطرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اڑ کر درخت کی شاخ پر جا بیٹھی اور پولی.. ” اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ “جو بات نہ ھو سکنے والی ھو اسکا ھر گز یقین نہ کرنا..” لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کرلیا کہ
میں چھٹانک بھر وزن رکھنے والی چڑیا اپنے پیٹ میں پاؤ وزن کا موتی رکھتی ھوں.. کیا یہ ممکن ھے..؟میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ ” جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا”۔ مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ھو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا..تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ھے.. تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری    پرکرو گے
تم نصیحت کے قابل نہیں.. “یہ کہتے ھوۓ چڑیا پھر سے اڑی.. اور ھوا میں پرواز کر گئی ۔

درس حیات

خردماغ اور جاہل کو نصیحت کرنا ایسے ھے جیسے بنجر زمین میں بیج بونا
(حکایات رومیؒ)
Urdu Moral Stories

ایک سپیرا اور اژدھا || سبق آموز واقعہ || Urdu Moral Story ||

ایک سپیرا اور اژدھا

دوستو" ایک سپیرا دن رات نت نۓ اور زہریلے سانپوں کی تلاش میں جنگل ، بیاباں ، کوہ ، صحرا میں مارا مارا پھرتا رھتا تھا ۔ ایک مرتبہ سخت سردی کے موسم میں وہ پہاڑوں میں سانپ تلاش کر رہا تھا ۔
کہ اس نے ایک مردہ اژدھا دیکھا جو کافی بھاری بھرکم تھا اور قوی الجثہ تھا ۔ اس کو خیال آیا کہ اگر اس مردہ اژدھے کو کسی طرح شہر لے جاٶں تو دیکھنے والوں کا ہجوم لگ جاۓ گا ۔ لوگوں کے جمع ہو جانے سے میں خوب مال کماٶں گا ۔
اژدھا کیا تھا ایک ستون کا ستون تھا ۔ وہ اس کو بڑی مشکل سے  جان جوکھم میں ڈال کرگھسیٹ کر شھر لے آیا ۔ غرض سپیرے کے اس کارنامے سے شہر بغداد میں اودھم برپا ہو گیا ۔ توں چل میں چل جس کے کانوں میں یہ خبر پہنچی کہ سپیرا ایک نادر و نایاب قسم کا سانپ پکڑ کر آیا ہے وہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر چل پڑا اسے دیکھنے کے لۓ ہزاروں لوگ جمع ہو گۓ ۔
دراصل اژدھا مردہ نہیں تھا بلکہ بہت زیادہ سردی کی وجہ سے اس کا جسم سن ہو چکا تھا ۔ ہجوم کی گرمی اور سورج کی روشنی سے اچانک اژدھے کے جسم میں تھرتھری پیدا ہوٸی اور اس نے اپنا منہ کھول دیا ۔ اژدھے کا منہ کھولنا تھا کہ قیامت برپا ہو گٸ ۔ بدحواسی اور خوف سے جس کا جدھر منہ اٹھا وہ  اسی طرف کو بھاگ نکلا ۔ جوں جوں آفتاب کی گرم دھوپ اژدھے پر پڑتی تھی توں توں اس کے جوڑ جوڑ اور بند بند سے زندگی نمودار ہو رہی تھی ۔ مارے خوف و دہشت کے سپیرے کے ہاتھ پاٶں پھول گۓ اس نے جی میں کہا غضب ہو گیا ۔ میں پہاڑ سے کس آفت کو اٹھا لایا ۔ اپنے ہاتھوں اپنی موت بلا لی ۔ ابھی وہ بھاگنے بھی نہ پایا تھا کہ اژدھے نے اپنا غار سا منہ کھولا اور سپیرے کو نگل لیا ۔ پھر وہ رینگتا ہوا آگے بڑھا اور ایک بلند عمارت کے ستون سے  اپنے آپ کو لپیٹ کر ایسا بل کھایا کہ سپیرے کی ہڈیاں بھی سرمہ ہو گٸیں ۔

درس حیات

دوستو" ہمارا نفس بھی اژدھے کی مانند ھے اسے مردہ نہ سمجھنا ۔ ذراٸع اور وساٸل نہ ہونے کی وجہ سے ٹھٹھڑا ہوا نظر آتا ھے ۔ ۔ اللّہ تعالیٰ کی عبادت سے غفلت اور دنیاداری کی حرارت سے وہ حرکت میں آجا تا ھے ۔۔
( ماخوذ حکایاتِ رومیؒ)
Urdu Moral Storyies

Monday, October 7, 2019

ایک سبق آموز واقعہ || اردو مورال سٹوری || شیر بھیڑیا اور لومڑی کا قصہ ||

ایک سبق آموز واقعہ

دوستو " ایک دفعہ کا ذکر ھے شیر بھیڑیا اور لومڑی اکھٹے شکار کو نکلے۔ ان کو شکار میں نیل گاۓ ،جنگلی بکرہ،اور خرگوش ملا ۔شیر نے دیکھا کہ بھڑیا اور لومڑی بھی شکار میں حصے کی خواہش رکھتے ہیں۔
اس نےانکی نیّتوں کو بھانپ کر پہلے بھیڑیۓ کو اپنے پاس بلایا۔ کہ وہ انصاف سے تقسیم کرے ۔ بھیڑیۓ نے کہا ۔ بادشاہ سلامت آپ سب سے بڑے ہیں اس لۓ نیل گاۓ آپکا حصہ ھے کیونکہ جنگلی بکرہ درمیانہ ھے اس لۓ وہ میرا حصہ ھے اور خرگوش لومڑی کو دے دیں ۔ شیر نے کہا ۔ میرے سامنے تیری یہ جرأت کہ میرے ہوتے ہوۓ تو انصاف کرے ۔ اس نے بھیڑیۓ کو قریب بلاکر اس زور سے پنجہ مارا کہ وہ ہلاک ھو گیا ۔ پھر اس نے لومڑی کو بلایا اور تقسیم کے لۓ کہا ۔ لومڑی نے با ادب ھوکرکہا حضور تقسیم کیسی آپ بادشاہ ہیں ۔ نیل گاۓ آپکا صبح کا ناشتہ بکرہ دوپہر کو اور خرگوش شام میں تناول فرما لیجۓ گا ۔ شیر اس تقسیم سے بہت خوش ھوا اور اس کی انصاف پسندی کی داد دیتے ھوۓ پوچھا کہ“ یہ انصاف کی تقسیم تم نے کہاں سے سیکھی ۔
 لومڑی کہا جناب“ بھیڑیۓ کے انجام سے “ شیر اس بات سے بہت خوش ھوا اور سارا شکار لومڑی کو دے دیا

درس حیات

دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرنا عقلمندوں کا شیوا ھے یہ ان کو انجام بد سے پچا لیتا ھے ۔
Husnain Abbas khan

ایک مفلس فقیر اور مدفون خزانہ

ایک مفلس فقیر اور مدفون خزانہ


ایک فقیر بہت مفلس اور کنگال تھا اس کی دعا رب تعالیٰ سے یہی تھی کہ تو نے بغیر مشقت کے مجھے پیدا کیا اب بغیر مشقت کے روزی بھی دے وہ مسلسل یہی دعا مانگا کرتا تھا
اللّہ تعالیٰ نے اسکی دعا قبول کی اور اس کو خواب آیا کہ توں ردی والے کی دکان پر جا وہاں تجھے بوسیدہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ملے گا وہ لے کر آ اور اسے تنہاٸی میں پڑھ ۔ وہ صبح اٹھا ردی والے کی دکان پر گیا تلاش کرنے پر اسے وہ کاغذ کا بوسیدہ ٹکڑا ملا جو وہ رات کو خواب میں دیکھ چکا تھا وہ اسکو گھر لے آیا اور تنہاٸی میں اسے پڑھا پرچے پر تحریر تھا کہ شہر سے باہر ایک مزار ھے وہاں پر خزانہ دفن ھے مزار کی طرف پشت کر اور منہ قبلہ کی طرف کرکے تیر کمان میں رکھ  جہاں پر تیر گرے وہاں پر خذانہ دفن ھوگا فقیر نے تیر کمان لیکر اپنے جوہر دکھانے شروع کردیۓ ۔ جہاں پر تیر گرتا وہا جلدی سے بیلچے اور پھاٶڑے سے زمین کھودنا شروع کردیتا ۔ بیلچہ پھاٶڑہ اور وہ فقیر کند ہو گۓ مگر خزانے کا کہیں نام ونشان نہ ملا ۔ وہ روزانہ اسی طرح عمل کرتا تیر پھینکتا جہاں تیر گرتا اس جگہ کو کھود دیتا مگر خزانہ نہ ملا ۔ فقیر کے اس پروگرام کا بادشاہ وقت کو پتا چلا اس نے فقیر کو طلب کیا اور اس سے ماجرہ پوچھا ۔ فقیر نے سارا واقعہ کہہ سنایا
اور کہنے لگا جب سے خزانے کا پتا پایا ھے تلاش میں ہوں خزانہ تو نہ ملا  سخت تکلیف اورمشقت میرا مقدر بن گٸ ھے ۔
بادشاہ نے فقیر سے وہ گنج نامہ لے لیا اور چھ ماہ تک تیراندازی کرتا رہا مگر کچھ ہاتھ نہ آیا ۔
بادشاہ سلامت نے بھی مایوس ھو کر وہ گنج نامہ فقیر کو واپس کردیا ۔
فقیر نے پھر اللّہ تعالیٰ سے رجوع کیا ۔ عاجزی و انکساری اور آنکھیں اشکبار کرکے دعا کی اے اللّہ تعالیٰ یہ عقدہ میری سمجھ سے بالا تر ھے میں اس راز کو نہ پاسکا تو خود ہی کمال مہربانی سے اسے حل فرما دے اور مجھے خزانے تک پہنچا دے جب وہ عاجز ہو کر بارگاہ الہیٰ میں سچے دل سے گر پڑا تو آواز آٸی ۔ میں نے تجھے تیر کمان میں رکھنے کو کہا تھا  ۔ تجھے تیر چلانے اور کمالات دکھانے کو نہیں کہا تھا ۔ خزانہ تیرے پاس تھا ۔ تیرے قریب تھا ۔ تو تیراندازی کے سفر میں اس سے دور ہوتا گیا ۔ خدا کی ذات کو اپنے اندر اپنے دل میں تلاش کر جو شہ رگ سے بھی قریب ھے ۔اپنے من میں ڈوب تو خزانے تک بھی پہنچ جاۓ گا

درس حیات

اس کے کرم سے گنج نامہ تو مل جاتا ھے مگر انسان جلد بازی چالاکی اور ہوشیاری سے پانے کی کوشش کرتا ھے یہ جوہر عاجزی انکساری اور من میں تلاش کرنے سے ملتا ھے ۔

Sunday, October 6, 2019

Hazrat khezir as Aur Aik Abid ka kisses Urdu Moral story Sabaq Amoz Waqia,

خضر علیہ السلام اور ایک عابد کا قصہ


دوستو! ایک نیاز مند کثرت سے ذکر الہٰی کرتا رہتا تھا حتکہ ایک دن اس پرخلوص ذکر سے اس کے لب شیریں ہوگۓ ......... شیطان نے اسے وسوسے میں ڈال دیا    بے فاٸدہ ذکر کی کثرت کررہا ہے ! تو اللّہ اللّہ کرتا رہتا ہے . جبکہ اللّہ کی طرف سے کبھی لبیک کی صدا ایک بار بھی  نہیں آٸی ! اور نہ اللّہ کی طرف سے کوٸی جواب ملتا ہے ، پھر یکطرفہ محبت کی پینگ بڑھانے سے کیا فاٸدہ  یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تیرا ذکرالہٰی اللّہ کے ہان مقبول نہیں ہے .............
شیطان کی ان پرفریب باتوں سے عابد نے ذکر کرنا چھوڑ دیا شکستہ دل اور افسردہ ھو کر سو گیا ! انکھ سو گٸ قسمت جاگ گٸ
عالم خواب میں دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام تشریف لاۓ اور فرمایا کہ ذکر الہٰی میں غفلت کیوں کی ! اے نیک بخت ذکر حق کیوں چھوڑ دیا ' آخر توں اس ذکر پاک سے پشیمان کیوں ہو گیا ؟ اس نے کہا بارگاہ الہٰی سے مجھے کوٸی جواب ہی نہیں ملتا : اس سے میرے دل میں خیال آیا کہ میرا ذکر قبول ہی نہیں ہو رہا
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا تمہارے لۓاللّہ تعالیٰ نے پیغام بھیجا ہے کہ تیرا اللّہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہونا اور دوسرا تمہارا پہلی مرتبہ اللّہ کہنا قبول ہوتا ہے تو دوسری دفعہ اللّہ کہنے کی توفیق ملتی ہے .......
اور تمہارے دل میں یہ جو سوز و گداز ھے  اور میری چاہت محبت اور تڑپ ھے یہی تمہارے ذکر کی قبولیّت کی نشانی ہے اے میرے بندے ! میری محبت میں تیری یہ تدبیریں اور محنتیں سب ہماری طرف سے جزب و کشش کا ہی عکس ہیں'
اے بندے! تیرا یہ خوف اور میری ذات سے تیرا یہ عشق میرا ہی انعام ھے ' اور میری ھی مہربانی و محبت کی کشش ہے کہ تیری ہر یااللّہ کی پکار میں میرا لبیک شامل ہوتا ہے
تمہارے ذکر کی قبولیّت کی یہی نشانی ہے کہ تجھے ذکر الیٰی میں مشغول کردیا ہے !
ایک جاھل اور غافل ذکر حق اور دعا مانگنے کی توفیق سے محروم رہتا ہے  اللّہ کے ذکر کا اجر اس ذکر میں ھی پوشیدہ ھوتا ھے !
اللّہ تعالیٰ اپنے ذکر کی اور یاد کی توفیق اسی کو عطا کرتے ہیں جس سے وہ خوش ہوتے ہیں اور یہی اس کی قبولّیت کی دلیل ہے

درس ھدایت

1۔نیکی کرنے کی توفیق بھی اللّہ ہی دیتا ھے
2۔شیطان ہردم اس کوشش میں رھتا ہے کہ انسان کسی طرح اللّہ کے ذکر سے باز آجاۓ

Husnain abbas khan

Thursday, October 3, 2019

صبر و تحمل کا انعام

﷽ 

صبر اور تحمل کا انعام

نبوّت سے قبل حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام بکریاں چرایا کرتے تھے ۔ ایک دن ایک بکری ریوڑ سے الگ ہو کر کہیں کھو گٸ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے پیچھے اسے ڈھونڈتے بہت دور نکل گۓ۔اس سے آپ علیہ السلام کے پاٶں مبارک پر ورم آگۓ اور زخمی بھی ہو گۓ۔بکری تھک ہار کر کہیں کھڑی ہو گٸ اور تب کہیں جاکر آپ کے ہاتھ آٸی۔آپ اس پر بجاۓ غصہ اور زود کوب کرنے کے اس کی گرد جھاڑی اور اس کی پشت پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔ ماں کی ممتا کی طرح اس سے پیار کرنے لگے ۔  باوجود اس قدر تکلیف برداشت کرنے کے ذرہ برابر بھی اس پر کدورت اور غیض و غضب نہ کیا ۔ بلکہ اس کی تکلیف دیکھ کر آپ کا دل رقیق ہو گیا اور آپکی آنکھوں میں آنسوں آگۓ۔ بکری سے کہنے لگے ۔ فرض کر تجھ کو مجھہ پر رحم نھیں آیا ۔ اس لۓ تو نے مجھے تھکایا اور پریشان کیا لیکن تجھے اپنے اونپر رحم کیوں نہ آیا ۔ میرے پاٶں کے آبلوں اور زخموں پر رحم نہیں آیا تھا ۔ کم از کم تجھے اپنے اوپر تو رحم کرنا چاھیے تھا ۔ اس وقت ملاٸکہ سے اللّہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبوّت کے لۓ حضرت موسیٰ علیہ السلام زیبا ہیں امت کا غم کھانے اور ان کی طرف سے ایذا رسانی کے تحمل کے لۓ جس جس حوصلہ و جگر کی ضرورت ہوتی ہے  وہ خوبی ان میں موجود ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ بکریاں چراتے ہوۓ مختلف جانب بکھر جاتی ہیں ان کو جمع رکھنے اور نگرانی میں پریشانی ہوتی ھے ۔ اس کام کے لۓ دل و دماغ کا قابل برداشت ہونا ضروری ھے
درس حیات
مخلوق خدا پر رحم کرنے سے دنیا اور آخرت میں  سرفرازی عطا ھوتی ھے
Husnain Abbas khan

بے وقوف کی صحبت || اردو مورال سٹوری ||

  بے وقوف کی صحبت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام تیز تیز قدم اٹھاتے ایک پہاڑ کی طرف جا رھے تھے ایک آدمی نے پوچھا اۓ اللّہ کے رسول علیہ السلام آپ اس وقت کہاں تشریف لے جارھے ہیں وجہ خوف کیا ھے آپ علیہ السلام کے پیچھے کوٸی دشمن بھی نہیں نظر آتا ........عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا  ٗ میں ایک بے وقوف آدمی سے بھاگ رہا ہوں تو اس میں خلل مت ڈال“ ... اس آدمی نے کہا یا حضرت کیا آپ وہ مسیحا علیہ السلام نہیں ہیں .....جن کی برکت سے اندھا اور بہرا شفا۶ یاب ہو جاتا آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں ......... اس شخص نے کہا کیا آپ علیہ السلام وہ بادشاہ نہیں ہیں جو مردوں پر کلام الہٰی پڑھتا ھے اور مدے کھڑے ہو جاتے ہیں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں .......... اس آدمی نے کہا کیا آپ علیہ السلام وہ نھیں ہیں جو مٹی کے پرندوں پر دم کریں تو وہ فوراً اڑنے لگتے ہیں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک میں وہی ہوں  ....... پھر اس شخص نے حیرانگی سے کہا پھر آپ علیہ السلا کو کس کا خوف ھے ............  حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اس رب العزت کی قسم جس کے اسم اعظم کو میں نے اندھوں اور بہروں پر پڑھا تو وہ شفا۶ یاب ھوے پہاڑوں پر پڑھا تو وہ ہٹ گۓ مردوں پر پڑھا تو وہ جی اٹھے لیکن وہی اسم اعظم میں نے احمق پر لاکھوں بار  پڑھا تو اس پر کوٸی اثر نہیں ہوا .......... اس آدمی نے کہا کہ یا حضرت علیہ السلام یہ کیا ہے کہ اسم اعظم اندھوں بہروں اور مردوں پر تو اثر کرے لیکن ایک احمق پر نہیں حلانکہ حماقت بھی ایک مرض ھے ........... حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا حماقت کی بیماری خداٸی قہر ھے

درس حیات

بیوقوف کی صحبت سے تنہاٸی بہتر ھے 

Wednesday, October 2, 2019

استون حنانہ

منبر رسول ﷺ بننے سے پہلے حضور ﷺ خشک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے

جب پختہ منبر رسول ﷺ تیار ہو گیا اور آپﷺ منبر پر تشریف فرما ہوۓ تو خشک کھجور کے تنے سے یہ صدمہ جداٸی برداشت نہیں ہوا

اس نے اس طرح رونا شروع کیا جس طرح ایک چھوٹا بچہ اپنی ماں کی جداٸی میں روتا ھے

    مولانا رومیؒ فرماتے ہیں خشک کھجور کا تنا

جس کا نام استونِ حنانہ تھا حضور ﷺ کی جداٸی میں نالہ کر رہا تھا مثل اربابِ عقول کے یعنی جس طرح کوٸی انسان رو رہا ہو 

اس آوازِ گریہ سے..... اصحاب رسول ﷺ تعجب میں پڑ گۓ کہ یہ ستون اپنے پورے حجم طول و ارض سے کس طرح رو رہا ھے آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تو اس طرح کیوں رو رہا ھے اس نے عرض کیا یا رسول اللّہ ﷺ مجھ سے آپ ﷺ کا صدمہ جداٸی برداشت نہیں ھوتا آپ ﷺ کی جداٸی سے میری جان اندر ہی اندر جل رہی ہے اس آتش غم کے ہوتے ہوۓ میں کیوں آہ وفغاں نی کروں..... ............یا رسول اللّہ ﷺ آپ ہی تو جان کاٸنات ہیں آپ ﷺ پہلے مجھ سے ٹیک لگا لیا کرتے تھے اب مجھ سے الگ ہو گۓ ہیں اور میری جگہ دوسرا منبر پسند فرما لیا ھے

حضور انور ﷺ نے ارشاد فرمایا 

آۓ مبارک ستون تو چاہتا ھے تو میں تیرے لۓ دعا فرماٶں کہ توں سرسبز اور ثمر آور درخت ہو جاۓ اور تیرے پھلوں سے ہر شرقی و غربی مستفید ہواور کیا توں ہمیشہ کے لۓ تروتازہ ہونا چاھتا ہے یا تو پھر عالم آخرت میں کچھ چاھتا ھے استونِ حنانہ نے کہا یا رسول اللّہ ﷺ میں تو ابدی اور داٸمی نعمت چاھتا ہوں

مولانا رومؒ فرماتے ہیں ...آۓ غافل ! تمھیں اس لکڑی سے سبق لینا چاھیۓ کہ توں انسان ہو کر دنیا فانی کا گرویدہ ہے اور آخرت سے رو گرداں ہو رہے ہو جبکہ ستونِ حنانہ نعمت داٸمی کونعمت فانی پر ترجیح دے رہا ھے;

 پھر اس ستونِ حنانہ کو زمین میں دفن کر دیا گیا تاکہ روز جزا مثل انسانوں کے اس کا حشر ھو

( درس حیات)

اگر حضورﷺ کی محبت و چاھت نھیں تو اسکی زندگی بھی بے معنی ہوگی وہ بدنصیب عالم برزخ اور آخرت میں بھی رحمت الہٰی سے محروم رھیگا

Husnain Abbas khan

سیاہ سانپ || اردو مورال سٹوری ||

                                            سیاہ سانپ
رسول اللّہﷺ نے ایک مرتبہ وضو کرنے کا ارادہ فرمایا تو ایک عقاب آپﷺ کا ایک موزہ اڑا کر لے گیا
                                                    آپﷺ یہ دیکھ کر حیران ہوۓ تھوڑے ہی وقفے کے بعدعقاب نے موزے کا منہ زمین کی طرف کیا موزے میں سے ایک سیاہ سانپ نیچے گرا اس عمل کے بعد عقاب آپﷺ کا موزہ لیکرآپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا
یا رسول اللّہﷺ اسی لیۓ یہ گستاخی کی تھی کہ اس کے اندر ایک سیاہ سانپ گھسا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے مجھے آپﷺ کی حفاظت پر معمور کیا تھا ورنہ میری کیا مجال تھی کہ آپﷺ کے سامنے یہ گستاخی کرتا
آپﷺ نے اللّہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور فرمایا ہم نے جس حادثہ کو باعث صدمہ سمجھا دراصل وہ  وفا اورباعث رحمت تھا
عقاب نے عرض کیا کہ  میں نے ہوا میں اڑتے ہوۓ موزہ پاک میں سانپ کو دیکھ لیا تھا تو یہ میرا کمال نھیں یا رسول اللّہﷺ یہ آپﷺ کے ہی نور اور روشنی کا فیضان اور عکس تھا آپﷺ تو سراج و منیر ہیں اگر کسی دل کے اندھے کو نظر نھیں آتا تو یہ اس کا قصور ھے کیونکہ تاریکی کا عکس تاریک ہی ہوتا ھے
(درس حیات)

آٸی ہوٸی مصیبت کسی بڑی مصیبت سے بچانے کا باعث ہوتی ہے اسی لۓ اپنے حالات اللّہ کے سپرد ھی رکھنا چاھیۓ
Husnain abbas

Tuesday, October 1, 2019

لطیفہ

ایک بوڑھی عورت نے 100 پولیس

والوں کی دعوت کی انسپکٹر میاں بی! یہ کھانا کس خوشی میں ہے؟؟ بوڑھی عورت میں نے دعا مانگی تھی کہ جب میرا گھر بن جائے گا تو میں 100 حرام زادوں کی دعوت کروں گی، اس لیے میں نے تم لوگوں کی دعوت کی انسپکٹر ہنستے ہوئے بولا: اماں بھی اتنا تکلف کیوں کیا؟ واپڈا والا ایک ہی کافی تھا