Tuesday, February 9, 2021

سلطان محمود غزنوی اور درویش

سلطان محمود غزنوی اور درویش عزت شہرت اور اقتدار کا سورج جب بھی کسی مٹی کے بنے انسان پر طلوع ہو تا ہے تو مشتِ غبار حضرت انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کر ہ ارض پر اس سے زیا دہ خو ش قسمت طاقتور اور عقل و شعور کا اور کوئی مالک نہیں ہے اور پھر اِس نشے میں غرق وہ ناکامی کمزوری یا شکست بھو ل جاتاہے لیکن جب قدرت ایسے انسان کو ٹھو کر لگا تی ہے اوقات یا د دلاتی ہے تو پھر یہ اقتدار کے k2سے نیچے بھی اُترتا ہے اور دائیں بائیں بھی دیکھتا ہے ایسا ہی ایک کمزور لمحہ تاریخ انسانی کے عظیم فاتح سلطان محمود غزنوی پر بھی آیا محمود غزنوی جو سمجھتا تھا کہ پوری کائنات اُسی کے دم سے دھڑکتی ہے اُس کی اپنی نبض ڈوبنا شروع ہو گئی اور پھر سلطا ن محمو د غزنوی جیسا عظیم پر جلال فاتح ایک خاک نشین درویش کے در پر سوالی بن کے کھڑا تھا ۔ سلطان محمود ہندوستان پر کئی کامیاب حملے کر چکا تھا لیکن ایک شہر میں آکر فتح اُس سے روٹھ چکی تھی ناکامی بار بار اُس کامنہ چڑا رہی تھی کئی کوششوں کے با وجود سومنات کی بت شکنی کر نے میں ناکام رہا تھا ناکامی کے بعد اُس نے امید بھری نظروں سے دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیا سہا رے ڈھونڈنا شروع کر دیئے ۔ مشکل کے اس وقت میں اسے ایک صاحب کرامت درویش کا پتہ چلا جس کی دعائیں با رگاہ الٰہی میں قبول ہو تی تھیں لیکن با دشاہ وہاں جانا تو ہین سمجھ رہا تھا اِ س لیے اُس نے سوچا پہلے درویش کی ولا یت کو آزمایا جا ئے اگر وہ اس آزمائش کی کسو ٹی پر پورا اُتر ے تو پھر اُس سے مدد ما نگی جائے اب سلطان نے اپنے خاص غلام ایاز کو بلا یا اور کہا میں ایک صاحب کرامت بزرگ سے ملنا چاہتا ہوں لوگوں کے بقول اُس کا دوسرا ثانی کر ہ ارض پر موجود نہیں ہے لیکن میں اُس سے ملاقا ت سے پہلے اُس کے روحا نی کمالات اور مقام کا امتحان لینا چاہتا ہوںاِس کے لیے تمام انتظامات تم کرو گے یہ تمام خفیہ طو رپر ہو نگے خدام اور کنیزوں کو ساتھ لیا جائے گا ہم اُس کی درگا ہ سے کچھ دور قیام فرمائیں گے ایاز نے سلطان کے حکم کی تعمیل شروع کر دی اب سلطان کنیزوں غلاموں اور ایاز کے ساتھ اُس درویش کی طرف روانہ ہوا اور قریب جاکر خیمے لگا دئیے‘ خیمے لگ گئے تو سلطان نے درویش کی طرف اپنے چند آدمی روانہ کئے اور انہیں یہ پیغام بھجوایا ‘خدا کا فرمان ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اُس کے رسولوں کی اطاعت کرو اُس کے بعد حاکم وقت کی اطاعت کرو پھر میرا سلام دینا اور کہنا سلطا ن محمود غزنوی نے آپ کو یاد کیا ہے ۔ درویش نے جب با دشاہ کا پیغام سنا تو ادائے بے نیازی سے فرمایا مجھے اللہ نے با دشاہ کی آمد کی اطلاع پہلے ہی دے دی ہے دوسری با ت اُس کے پیغام کی ہے تو میں اللہ کی اطاعت میں اس قدر گم ہوں کہ مجھے کسی اور کی اطاعت کا ہوش ہی نہیں ہے اِن حالات میں امیر کی اطاعت کی پرواہ بھی نہیں ہے اِس لیے با دشاہ کو ضرورت ہے تو وہ خو د فرش نشین کے پاس آجائے سلطا ن محمود غزنوی نے جب یہ پیغام سنا تو برملا پکا ر اُٹھا یہ واقعی کوئی صاحب کرامت کامل بزرگ ہیں غلام ایاز نے ادب سے کہا شہنشاہ حضور میں تو پہلے ہی فکر مند تھا کہ کہیں یہ بزرگ آپ کے پاس آنے سے انکار ہی نہ کر دیں کیو نکہ میرا دل گوا ہی دے رہا تھا کہ یہ کو ئی اللہ کے حقیقی بے نیاز بزرگ ہیں ایاز کی با ت سن کر محمود نے فیصلہ کیا کہ درویش وقت کی با رگا ہ میں بنفس نفیس جایا جا ئے اب بادشاہ نے ایاز کو حکم دیا کہ میری جگہ وہ شاہی لبا س پہن لے اور خود ایاز کا غلامانہ لبا س محمود نے پہن لیا اور صحت مند کنیزوں کو مردانہ لباس پہنا دیا گیا اور سب کو حکم جا ری کیا کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں اور ایازکو تا کید کی کہ وہ فقیر کے حضور بطو ربا دشاہ پیش ہو گا اور محمود بطور غلام پیش ہو گا بادشاہ ابھی بھی بزرگ کی ولا یت آزمانے کے چکر میں تھا اب جب ایاز اور محمود درویش کے دربار میں پہنچے تو ایاز نے بادشاہوں کی طرح سلام کیا اب درویش نے ایاز کے سلام کا جواب تو دیا لیکن اصل تو جہ محمود کو دی ایاز کو تو جہ نہ دی زیا دہ گفتگو محمود سے کی آخر محمود نے کہا حضرت آپ ہما رے با دشاہ پر تو جہ کیوں نہیں دے رہے تو درویش نے دھیمے دلنشیں لہجے میں فرمایا میں تیرے بادشاہ سے نہیں تجھ سے با ت کر نا چاہتا ہوں محمود نے حیرت سے پو چھا حضرت کیوں ؟ تو درویش نے گہری نظروں اور تبسم بھرے لہجے میں کہا اِس لیے کہ تمہا را بادشاہ چند لمحوںکا ہے اور اُسے مجھ سے کچھ دریا فت بھی نہیں کر نا لہٰذا میں اس سے بات کیا کروں محمو د حیرت سے بولا حضور میں آپ کی با ت سمجھا نہیں تو درویش کے لہجے میں اب ہلکا سا جلال آگیا اورکہا فریب کا جال تو بن سکتے ہو مگر میری آسان بات نہیں سمجھ سکتے تم نے میرا امتحان لینے کے لیے اپنے غلام کو شاہی لباس پہنا کر بادشاہ بنایا ہوا ہے تا کہ تم مجھے اپنے سامنیشرمندہ کرسکے لیکن یہ تمہا ری حما قت ہے تو ایسے ہزاروں شاطرانہ جال بن لے میرا خدا مجھے سر خرو ہی کر ے گا با دشاہ اپنے ہی عرق ندامت میں ڈوب گیا اور شرمندہ معذرت خوا ہانہ لہجے میں بو لا میں نے جال ضرور بچھا یا مگر آپ جیسا شہبا ز میرے جال میں نہیں پھنس سکا پھر درویش نے پر جلال آواز میں کہا اِ ن غیر محرم عورتوں کو با ہر نکال دو تا کہ تمہارے ساتھ کو ئی بات کی جا سکے محمو د نے شرمندہ ہو کر کنیزوں کو با ہر بھیج دیا تو درویش نے دعا دی اور کہا خدا تمہا ری عاقبت سنوار دے محمود نے آپ کی خدمت میں اشرفیوں کی بو ری پیش کی تو فقیر نے کہا پہلے تم میر ی یہ خشک روٹی کھا ئو بادشاہ نے روٹی منہ میں ڈالی مگر کوشش کے با وجود اُسے نگل نہ سکا معذرت کی کہ روٹی مجھ سے نگلی نہیں جا رہی اب درویش نے فرمایا جس طرح میری خشک روٹی تم نہیں نگل سکتے اِسی طرح تمہا ری اشرفیاں میرے حلق میں پھنس جا ئیں گی لہٰذا اِن کو واپس لے جائو با دشاہ نے کہیں زیا دہ منت سما جت کی لیکن بے نیاز درویش نے انکار کیا پھر با دشاہ نے دعا کی درخواست کی کہ دعا کر یں خدا مجھے سومنات کا قلعہ فتح کرنا نصیب کر ے درویش با کمال نے دعا فرمائی اور اپناپیراہن با دشاہ کو دیا اور پر جلال لہجے میں کہا اب جب تم حملے کی غرض سے ہندوستان جائو تو نماز کے بعد میرا یہ پیراہن ہاتھ میں پکڑ کر خدا کی با رگاہ میں دعا کر نا خالق کائنات تمہیں عظیم الشان فتح سے ہمکنا ر کر ے گا اور پھر ایسا ہی ہوا محمو دہندوستان گیا تو درویش خدا کے پیرا ہن کی بدولت فاتح سومنا ت بن کر لوٹا اور آنے کے فورا بعد درویش کی با رگاہ میں حاضر ہو کر شکریہ ادا کیا بہت سارے تحائف اور اشرفیاں پیش کیں اور درخواست کی کہ کو ئی حکم ہو تو میں بجا لا نے میں خو شی محسوس کروں گا سلطان نے فقیر کی خانقاہ کی بہت زیا دہ تعریف کی تو بے نیاز فقیر نے فرمایا محمود تم اتنی وسیع و عریض سلطنت کے اکلوتے وارث ہو دنیا جہاں کی نعمتیں تمہارے قدموں میں ڈھیر ہو چکی ہیں اِس کے باوجود تمہا ری ہو س کم نہیں ہو رہی وسیع و عریض سلطنت کے ہو تے ہو ئے تم پھر بھی درویش کی جھو نپڑی پر نظر رکھتے ہو با دشاہ شرمندہ ہوا اور رخصت ہو نے لگا تو درویش اُس کے احترام میں کھڑے ہو گئے محمود بو لا حضرت جب میں پہلے حاضر ہوا تو آپ نے یہ عزت مجھے بالکل بھی نہیں دی اب کیا وجہ ہے تو آپ نے فرمایا پہلے تمہا رے ساتھ شاہی غروراور جلال تھا اور تم میرا امتحان لینے آئے تھے جبکہ اِس بار تمہارا ظاہر و با طن عاجزی انکساری سے بھرا ہوا ہے اِس لیے اب تمہا ری تعظیم لا زم ہو گئی ہے بادشاہ سلطان محمود غزنوی جس درویش کے در پر دامن مراد پھیلا ئے حاضر ہوا وہ اپنے وقت کے مشہور و معروف حضرت صاحب ولایت کرامت بزرگ حضرت ابو الحسن خر قانی ؒ تھے جو روحانی فیض کے لیے حضرت با یزید بسطامی ؒ کے مزار پر سالوں سال حاضر ہو تے رہے اُن سے آپ کا خصوصی روحانی تعلق تھا ۔ 5 عزت شہرت اور اقتدار کا سورج جب بھی کسی مٹی کے بنے انسان پر طلوع ہو تا ہے تو مشتِ غبار حضرت انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کر ہ ارض پر اس سے زیا دہ خو ش قسمت طاقتور اور عقل و شعور کا اور کوئی مالک نہیں ہے اور پھر اِس نشے میں غرق وہ ناکامی کمزوری یا شکست بھو ل جاتاہے لیکن جب قدرت ایسے انسان کو ٹھو کر لگا تی ہے اوقات یا د دلاتی ہے تو پھر یہ اقتدار کے k2سے نیچے بھی اُترتا ہے اور دائیں بائیں بھی دیکھتا ہے ایسا ہی ایک کمزور لمحہ تاریخ انسانی کے عظیم فاتح سلطان محمود غزنوی پر بھی آیا محمود غزنوی جو سمجھتا تھا کہ پوری کائنات اُسی کے دم سے دھڑکتی ہے اُس کی اپنی نبض ڈوبنا شروع ہو گئی اور پھر سلطا ن محمو د غزنوی جیسا عظیم پر جلال فاتح ایک خاک نشین درویش کے در پر سوالی بن کے کھڑا تھا ۔ سلطان محمود ہندوستان پر کئی کامیاب حملے کر چکا تھا لیکن ایک شہر میں آکر فتح اُس سے روٹھ چکی تھی ناکامی بار بار اُس کامنہ چڑا رہی تھی کئی کوششوں کے با وجود سومنات کی بت شکنی کر نے میں ناکام رہا تھا ناکامی کے بعد اُس نے امید بھری نظروں سے دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیا سہا رے ڈھونڈنا شروع کر دیئے ۔ مشکل کے اس وقت میں اسے ایک صاحب کرامت درویش کا پتہ چلا جس کی دعائیں با رگاہ الٰہی میں قبول ہو تی تھیں لیکن با دشاہ وہاں جانا تو ہین سمجھ رہا تھا اِ س لیے اُس نے سوچا پہلے درویش کی ولا یت کو آزمایا جا ئے اگر وہ اس آزمائش کی کسو ٹی پر پورا اُتر ے تو پھر اُس سے مدد ما نگی جائے اب سلطان نے اپنے خاص غلام ایاز کو بلا یا اور کہا میں ایک صاحب کرامت بزرگ سے ملنا چاہتا ہوں لوگوں کے بقول اُس کا دوسرا ثانی کر ہ ارض پر موجود نہیں ہے لیکن میں اُس سے ملاقا ت سے پہلے اُس کے روحا نی کمالات اور مقام کا امتحان لینا چاہتا ہوںاِس کے لیے تمام انتظامات تم کرو گے یہ تمام خفیہ طو رپر ہو نگے خدام اور کنیزوں کو ساتھ لیا جائے گا ہم اُس کی درگا ہ سے کچھ دور قیام فرمائیں گے ایاز نے سلطان کے حکم کی تعمیل شروع کر دی اب سلطان کنیزوں غلاموں اور ایاز کے ساتھ اُس درویش کی طرف روانہ ہوا اور قریب جاکر خیمے لگا دئیے‘ خیمے لگ گئے تو سلطان نے درویش کی طرف اپنے چند آدمی روانہ کئے اور انہیں یہ پیغام بھجوایا ‘خدا کا فرمان ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اُس کے رسولوں کی اطاعت کرو اُس کے بعد حاکم وقت کی اطاعت کرو پھر میرا سلام دینا اور کہنا سلطا ن محمود غزنوی نے آپ کو یاد کیا ہے ۔ درویش نے جب با دشاہ کا پیغام سنا تو ادائے بے نیازی سے فرمایا مجھے اللہ نے با دشاہ کی آمد کی اطلاع پہلے ہی دے دی ہے دوسری با ت اُس کے پیغام کی ہے تو میں اللہ کی اطاعت میں اس قدر گم ہوں کہ مجھے کسی اور کی اطاعت کا ہوش ہی نہیں ہے اِن حالات میں امیر کی اطاعت کی پرواہ بھی نہیں ہے اِس لیے با دشاہ کو ضرورت ہے تو وہ خو د فرش نشین کے پاس آجائے سلطا ن محمود غزنوی نے جب یہ پیغام سنا تو برملا پکا ر اُٹھا یہ واقعی کوئی صاحب کرامت کامل بزرگ ہیں غلام ایاز نے ادب سے کہا شہنشاہ حضور میں تو پہلے ہی فکر مند تھا کہ کہیں یہ بزرگ آپ کے پاس آنے سے انکار ہی نہ کر دیں کیو نکہ میرا دل گوا ہی دے رہا تھا کہ یہ کو ئی اللہ کے حقیقی بے نیاز بزرگ ہیں ایاز کی با ت سن کر محمود نے فیصلہ کیا کہ درویش وقت کی با رگا ہ میں بنفس نفیس جایا جا ئے اب بادشاہ نے ایاز کو حکم دیا کہ میری جگہ وہ شاہی لبا س پہن لے اور خود ایاز کا غلامانہ لبا س محمود نے پہن لیا اور صحت مند کنیزوں کو مردانہ لباس پہنا دیا گیا اور سب کو حکم جا ری کیا کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں اور ایازکو تا کید کی کہ وہ فقیر کے حضور بطو ربا دشاہ پیش ہو گا اور محمود بطور غلام پیش ہو گا بادشاہ ابھی بھی بزرگ کی ولا یت آزمانے کے چکر میں تھا اب جب ایاز اور محمود درویش کے دربار میں پہنچے تو ایاز نے بادشاہوں کی طرح سلام کیا اب درویش نے ایاز کے سلام کا جواب تو دیا لیکن اصل تو جہ محمود کو دی ایاز کو تو جہ نہ دی زیا دہ گفتگو محمود سے کی آخر محمود نے کہا حضرت آپ ہما رے با دشاہ پر تو جہ کیوں نہیں دے رہے تو درویش نے دھیمے دلنشیں لہجے میں فرمایا میں تیرے بادشاہ سے نہیں تجھ سے با ت کر نا چاہتا ہوں محمود نے حیرت سے پو چھا حضرت کیوں ؟ تو درویش نے گہری نظروں اور تبسم بھرے لہجے میں کہا اِس لیے کہ تمہا را بادشاہ چند لمحوںکا ہے اور اُسے مجھ سے کچھ دریا فت بھی نہیں کر نا لہٰذا میں اس سے بات کیا کروں محمو د حیرت سے بولا حضور میں آپ کی با ت سمجھا نہیں تو درویش کے لہجے میں اب ہلکا سا جلال آگیا اورکہا فریب کا جال تو بن سکتے ہو مگر میری آسان بات نہیں سمجھ سکتے تم نے میرا امتحان لینے کے لیے اپنے غلام کو شاہی لباس پہنا کر بادشاہ بنایا ہوا ہے تا کہ تم مجھے اپنے سامنیشرمندہ کرسکے لیکن یہ تمہا ری حما قت ہے تو ایسے ہزاروں شاطرانہ جال بن لے میرا خدا مجھے سر خرو ہی کر ے گا با دشاہ اپنے ہی عرق ندامت میں ڈوب گیا اور شرمندہ معذرت خوا ہانہ لہجے میں بو لا میں نے جال ضرور بچھا یا مگر آپ جیسا شہبا ز میرے جال میں نہیں پھنس سکا پھر درویش نے پر جلال آواز میں کہا اِ ن غیر محرم عورتوں کو با ہر نکال دو تا کہ تمہارے ساتھ کو ئی بات کی جا سکے محمو د نے شرمندہ ہو کر کنیزوں کو با ہر بھیج دیا تو درویش نے دعا دی اور کہا خدا تمہا ری عاقبت سنوار دے محمود نے آپ کی خدمت میں اشرفیوں کی بو ری پیش کی تو فقیر نے کہا پہلے تم میر ی یہ خشک روٹی کھا ئو بادشاہ نے روٹی منہ میں ڈالی مگر کوشش کے با وجود اُسے نگل نہ سکا معذرت کی کہ روٹی مجھ سے نگلی نہیں جا رہی اب درویش نے فرمایا جس طرح میری خشک روٹی تم نہیں نگل سکتے اِسی طرح تمہا ری اشرفیاں میرے حلق میں پھنس جا ئیں گی لہٰذا اِن کو واپس لے جائو با دشاہ نے کہیں زیا دہ منت سما جت کی لیکن بے نیاز درویش نے انکار کیا پھر با دشاہ نے دعا کی درخواست کی کہ دعا کر یں خدا مجھے سومنات کا قلعہ فتح کرنا نصیب کر ے درویش با کمال نے دعا فرمائی اور اپناپیراہن با دشاہ کو دیا اور پر جلال لہجے میں کہا اب جب تم حملے کی غرض سے ہندوستان جائو تو نماز کے بعد میرا یہ پیراہن ہاتھ میں پکڑ کر خدا کی با رگاہ میں دعا کر نا خالق کائنات تمہیں عظیم الشان فتح سے ہمکنا ر کر ے گا اور پھر ایسا ہی ہوا محمو دہندوستان گیا تو درویش خدا کے پیرا ہن کی بدولت فاتح سومنا ت بن کر لوٹا اور آنے کے فورا بعد درویش کی با رگاہ میں حاضر ہو کر شکریہ ادا کیا بہت سارے تحائف اور اشرفیاں پیش کیں اور درخواست کی کہ کو ئی حکم ہو تو میں بجا لا نے میں خو شی محسوس کروں گا سلطان نے فقیر کی خانقاہ کی بہت زیا دہ تعریف کی تو بے نیاز فقیر نے فرمایا محمود تم اتنی وسیع و عریض سلطنت کے اکلوتے وارث ہو دنیا جہاں کی نعمتیں تمہارے قدموں میں ڈھیر ہو چکی ہیں اِس کے باوجود تمہا ری ہو س کم نہیں ہو رہی وسیع و عریض سلطنت کے ہو تے ہو ئے تم پھر بھی درویش کی جھو نپڑی پر نظر رکھتے ہو با دشاہ شرمندہ ہوا اور رخصت ہو نے لگا تو درویش اُس کے احترام میں کھڑے ہو گئے محمود بو لا حضرت جب میں پہلے حاضر ہوا تو آپ نے یہ عزت مجھے بالکل بھی نہیں دی اب کیا وجہ ہے تو آپ نے فرمایا پہلے تمہا رے ساتھ شاہی غروراور جلال تھا اور تم میرا امتحان لینے آئے تھے جبکہ اِس بار تمہارا ظاہر و با طن عاجزی انکساری سے بھرا ہوا ہے اِس لیے اب تمہا ری تعظیم لا زم ہو گئی ہے بادشاہ سلطان محمود غزنوی جس درویش کے در پر دامن مراد پھیلا ئے حاضر ہوا وہ اپنے وقت کے مشہور و معروف حضرت صاحب ولایت کرامت بزرگ حضرت ابو الحسن خر قانی ؒ تھے جو روحانی فیض کے لیے حضرت با یزید بسطامی ؒ کے مزار پر سالوں سال حاضر ہو تے رہے اُن سے آپ کا خصوصی روحانی تعلق تھا ۔ (

Saturday, February 6, 2021

بھکاری عورت

هﻢ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻨﮕﮯریسٹو ﺭﯾﻨﭧ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎﮐﮭﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﺎﻭﺍﻓﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﺩﻭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯﻟﺌﮯﮐﺎﻓﯽ ﮨﻮ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺑﺮﺗﻦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﻭﯾﭩﺮﺳﮯﻭﺍﻓﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﮐﮩﺎ ''''’ﺍﺳﮯ ﭘﯿﮏ ﮐﺮﺩﻭ''" ﻭﯾﭩﺮ ﻧﮯ ﻃﻨﺰﯾﮧﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟﮐﮩﺎ’ﺍﺱ ﮐﻮ‘؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﭘُﺮﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ، ﺟﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯﻣﯿﺮﯼ ﺍﺱﺣﺮﮐﺖ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﻘﻮﯾﺖ ﺩﮦ ﻓﻘﺮﮦ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﻥﭘﺮﻭﺍﮦ ﮐﺮﺗﺎ ہے ﺑﻞ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ کے ﺑﻌﺪ،،،،،، ﻭﯾﭩﺮ ﻧﮯ ﭘﯿﮏ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺑﮧ ﻣﯿﺰ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ، ﺳﺐ ﺍﯾﮏﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯﮐﻮﻥ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟؟؟؟؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮈﺑﮧ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﮐﮩﺎ’ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﮞ‘۔ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ایک ﭼﻮﮎ ﺳﮯﺫﺭﺍ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺩﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭﭘﺎﺱ ﮨﯽ ﺍﺱﮐﺎﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮭﯿﻞﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯﭘﺎﺱ ﮔﺎﮌﯼ ﺭﻭﮐﯽ اﻭﺭ ﮈﯾﺶ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﺮ ﭘﮍﺍﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺑﮧ ﺳﺎﺗﮫﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻣﯽ ﮐﻮ ﺩﮮ ﮐﺮ،ﺷﯿﺸﮧ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﮐﮩﺎ،،،، ﯾﮧ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﮍﺍ ﺩﯾﮟ!!! ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻣﯽ ﻧﮯﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﮍﺍﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺗﻮﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﻣﯽﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯﭘﮑﮍ ﮐﺮﺍﺱﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯﮐﮩﺎ،،،، ﺍﻟﻠﮧ ﺑﮭﻼ ﮐﺮﮮ!!!! ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮯﺑﮭﻮﮐﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻟﮯﺍٓﺗﮯ ﻭﮦ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯﭘﯿﮑﭧﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ،،،، ﻣﯿﮟ ﻧﮯﻣﮍ ﮐﺮﺳﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ (ﺍﺏﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺟﻮﻣﯿﺮﯼ ﺗﮭﯽ) ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ۔’ﮨﻢ ﻭﯾﭩﺮ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟﺍﻣﯿﺮ ﻧﻈﺮ ﺍٓﻧﮯ ﮐﯽﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼﻧﯿﮑﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ،،،، ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﯾﺎﺩﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮨﯿﮟ ﻭﯾﭩﺮﯾﺎﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺼّﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺭﺍﺋﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﻮﺭﮮ ﻋﻤﻞ ﺳﮯﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﺰﺍ ﯾﺎ ﺟﺰﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ،،،،،، اللہ ہم سب کو غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق دے،،،آمین

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کا ایمان افروز واقعہ

 ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺍﺩﮨﻢ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻓﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺍﺩﮬﻢ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: پانچ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮﻭ۔ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺮﻓﺖ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ۔

ﺍﻭﻝ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺭﺯﻕ ﻣﺖ ﮐﮭﺎ۔

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺯﺍﻕ ﺗﻮ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﺐ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺭﺯﻕ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﺮﮮ

ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣُﻠﮏ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻭ۔ 

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﻮﻻ ﺗﻤﺎﻡ ﻣُﻠﮏ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﻧﮑﻠﻮﮞ۔

ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ۔

ﺗﯿﺴﺮﯼ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﺮ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺗﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ۔

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﺐ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺯﻕ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﮮ۔

ﭼﻮﺗﮭﮯ

ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﻠﮏ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺫﺭﺍ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﮮ۔

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﻮﻻ ﻭﮦ ﺑﮭﻼ ﻣﮩﻠﺖ ﮐﺐ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ 

ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮﯾﮧ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﮯ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺳﻤﺠﮫ،

ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺯﺥ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ، 

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ 

ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺧﻮﺩ ﺳﻮﭺ ﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﺗﺠﮭﮯ ﺯﯾﺒﺎ ﮨﮯ۔

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺍﺩﮬﻢ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﭽﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔

Badshah Aur Ghulam | sabaq amoz Qissa | بادشاہ اور غلام

 بادشاہ اور غلام


بادشاہ سلامت کا دربار لگا ہے ۔ حاجت مند قطار اندرقطار پیش ہو رہے ہیں ۔ بادشاہ ہر ایک کی درخواست پر حاجت مند کی خواہش کے مطابق حکم صادر کررہا ہے اور ڈھیروں دعا سمیٹ رہا ہے۔ اتنے میں ایک سوداگر حاضر ہوتا ہے۔ وہ بادشاہ کی وقار اور خوشی و خوشنودی کی خاطر چند غلام اپنت ساتھ لایا ہے تاکہ بادشاہ کی خدمت گزاری کے لیے اُنہیں پیش کر سکے۔ وہ بادشاہ سے درخواست پزیر ہوتا ہے:

           " بادشاہ سلامت!  رب الرحمان ورحیم آپکا وقار واختیار بلند وبالا کرے! میں چند غلام آپ کے حضور پیش کرنے کے لیے لایا ہوں آپ انہیں شرف بازیابی بخشے اور جو غلام آپ پسند فرمائیں اپنی خدمت و نیازمندی کے لیے اپنے پاس رکھ لیں۔میں جانتا ہوں کہ آپ کے پاس غلاموں کی کمی نہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لیے بڑی سعادت مندی اعزاز و فخر ہوگا ۔اگر میرا پیش کردہ غلام آپکے احکامات کی بجاآوری کے لیے آپ کے دربارِ شاہی میں مامور ہوگا۔"

            بادشاہ اس سوداگر کی درخواست پر زیر لب مسکراتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ:

             " ہر ایک غلام کو باری باری میری خدمت میں پیش کیا جائے ۔ میں ان سے سوالات کروں گا اور جس کے جوابات سے متاثر ہوا ان کےگئے نے دربار میں رکھ لوں گا"

ہر ایک کو بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا،  بادشاہ نے ہر ایک سے سوالات کیے لیکن کسی کی جواب سے مطمئن نہ ہوا  ۔ بادشاہ نے سوداگر سے کہاکہ مجھے ان میں سے کوئی بھی مجھے مطمئن نہ کرسکا اس لیے اگر کوئی اور ہے تو بھیج دو اگر نہیں تو پھر انکو بھی لے جاؤ۔ بادشاہ سلامت ایک اور غلام باہر موجود تو ہے اور وہ ضد کرکے میرے ساتھ یہاں تک آیا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس  اعلیٰ وارفع دربار شاہی کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے میں نے اسے اپکی خدمت میں پیش نہیں کیا،  بادشاہ زوردار لہجے میں سوداگر سے کہتا ہے۔ 

        "تم نے یہ کیسے فیصلہ کر لیا کہ وہ دربار شاہی کے قابل نہیں؟؟؟  انہیں میری خدمت میں فوراً پیش کرو۔ غلام کو بادشاہ کے روبرو پیش کیا گیا،  غلام نے سرجھکائے سلام کیا۔ بادشاہ نے دوسروں کی طرح اس سے بھی نام پوچھا،  غلام نے جواب دیا بادشاہ سلامت آپ کو غلام کو جس نام سے چاہیں یاد فرما لیں ، غلام تو غلام ہی رہتا ہے اس کا کوئی اور نام کیا ہوسکتا ہے ۔"

بادشاہ پوچھتا ہے اچھا بتاؤ کھانے میں تم کو کیا پسند ہے؟ غلام جواب دیتا ہے " مالک کی مرضی جو کھلا دے  وہی میری پسندیدہ غزا ہوگی۔"

بادشاہ نے آخری سوال پوچھا " تمھاری کیا خواہش ہے فوراً پوری کی جائیگی ہم تمھارے جوابات سے خوش ہوئے۔"


"  غلام نے کہا بادشاہ سلامت میں ایک غریب اور مفہوم حال غلام ہوں نہ اختیار اپنا نہ ارادہ اپنا۔ اس لیے مجھے کوئی حق نہیں کہ کسی خواہش اور آرزو کو دل میں جگہ دوں۔ میری کوئی بھی طلب نہیں۔"


غلام کے جوابات سن کر بادشاہ نے ایک نعرہ تکبیر بلند کیا اور بیہوش ہوگئے۔

تمام درباری جمع ہوگئے افراتفری پھیلی ہوئی تھی،  حکیم طبیب بلائے گئے۔ ہر شخص فکرمند تھا۔ اور وہ سوداگر جو اس غلام  کو لایا تھا ازحد متفکر ہوکر ایک سائیڈ پر بیٹھا تھا۔اور دل ہی دل میں سوچتا تھا کہ میرا اندازہ درست تھا کہ یہ غلام دربار شاہی کے قابل نہیں اور اب اس غلام کا انجام کیا ہوگا؟؟؟؟ 


تھوڑی دیر بعد بادشاہ ہوش میں آتا ہے اور آنکھیں کھولتا ہے تمام درباریوں کی جان میں جان آجاتی ہے مگر بادشاہ سلامت پہلی نظر جس شخص پر ڈالتا ہے وہ وہی غلام ہے ۔ بادشاہ دیکھتا ہے کہ غلام اسی طرح کھڑا تھا نہ اس کی چہرے پر کوئی اداسی نہ پریشانی۔

اب بادشاہ تھوڑے توقف کے بعد لب کشا ہوتا ہے اور خودکلامی کرتے ہوئے قابل سماعت آواز میں کہتا ہے :


" اے ابراہیم ادھم افسوس ہے تم پر بلکہ افسوس صد ہزار افسوس ہے تجھ پر ! تو بھی اپنے رب کی غلامی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن تیرا مقام اس غلام سے بھی کم تر ہے ۔حالانکہ رب قادر وقدیر نے تجھے بادشاہت جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ تجھ سے تو غلام بدرجہا بہتر ہے کہ جس نے اپنے سارے اختیارات اپنے مالک کے سپرد کر دئیے اور تو اپنے اختیارات اپنے پاس رکھتا ہے۔"

اگرچہ بادشاہ سلامت ، بلخ کے سلطان اور عظیم المرتبت حکمران ابراہیم اودھم نے اس غلام کو اپنے مقربین میں شامل کر لیا تاہم اس کے دل و دماغ پر اس غلام کے جوابات کا جو اثر ہوا وہ ناقابل بیان تھا۔

Friday, August 7, 2020

غرور کا سر نیچا۔سبق آموز کہانی۔gharoor ka sar necha

 غرور کا سر نیچا

سبق آموز کہانی


ایک کسان کا بڑا سا کھیت تھا۔ اور اسی کے ساتھ اس کا پیارا سا گھر بھی بنا ہوا تھا۔ کسان کےپاس کئی جانورتھے،جیسے ہل چلانے کے لیے اور کنویں سے پانی نکالنے کے لیے بیل، کھیت کی حفاظت کے لیے کتے، گھر میں استعمال کے لیے مرغیاں ، دودھ کے لیے بھینس اور بکریاں۔ ان جانوروں کو کسان نے گھر کے پیچھے والے حصے میں ایک چھپر بنا کر رکھا ہوا تھا۔
کسان نے جو مرغیاں پالی ہوئی تھیں، ان میں ایک بہت صحت مند اور خوبصورت مرغا بھی تھا،اس کے سر پر سرخ رنگ کا تاج تھا اور اس کے پر بھی بہت چمکدار سرخ اور سنہری تھے۔ وہ ایسے شان سے چلتا تھا ،جیسے کوئی بادشاہ ہو۔ وہ اپنی خوبصورتی پر فخر کرتا تھا۔ اور بہت زیادہ مغرور ہو گیا تھا۔دوسرے جانوروں کی طرف وہ حقارت سے دیکھا کرتا تھا اور ان کے ساتھ دوستی بھی نہیں کرتا۔ بس اکیلے ہی گھومتا رہتا اور کھیت میں چگتا پھرتا۔
ایک مرتبہ ایک لومڑی گھومتے گھومتے اس کھیت کے پاس سے گزری۔ اس نے کھیت میں صحت مند اور خوبصورت سا مرغا دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ سوچ ہی رہی تھی کہ کس طرح اس مرغے کو کھایا جائے۔اتنے میں مرغے نے لومڑی کو دیکھ لیا۔ اور خطرہ بھانپ کر وہ فوراً اڑ کر قریب کے درخت پر بیٹھ گیا۔ لومڑی سمجھ گئی کہ مرغا کافی سمجھ دار ہے، کوئی ترکیب استعمال کرنی پڑے گی، تب ہی یہ مرغا میرے ہاتھ آ سکتا ہے۔ یہ سوچ کر لومڑی نے مرغے کے ساتھ گفتگو شروع کی۔
’’اے حسین مرغے، میں نے آج تک اتنا خوبصورت مرغا نہیں دیکھا۔ تم تو ساری دنیا میں سب سے خوبصورت مرغے ہو۔ تم نیچے تو آؤ۔ ہم کچھ دیر بات چیت کریں گے.
مرغےنے کہا،’’نہیں بھئی، میں تو نیچے نہیں آؤں گا، اگر میں نیچے آیا تو تم مجھے کھا لوگی‘
لومڑی نے کہا،نہیں بھائی نہیں۔ میں تمہیں کیوں کھانے لگی؟ مگر ہاں،مجھے تم سے دوستی ضرور کرنی ہے۔ تم جو صبح صبح اذان دیتے ہو نا، فجر میں اٹھ کر، وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔
اب جیسے ہی مرغے نے اپنی تعریف سنی، وہ فوراً نیچے اتر آیا۔
لومڑی بہت چالاک تھی۔ پہلے دن تو اس سے خوب گپ شپ لگائی۔ اور اپنے گھر چلی گئی۔ اسی طرح سے وہ تین ،چار دن تک لگاتار آتی رہی۔ اچھی اچھی باتیں کرتی۔ اس طرح اس نے مرغے سے دوستی کرلی۔ مرغا بھی لومڑی سے مانوس ہوتا گیا۔
پھر ایک دن جب مرغا باتوں کے دوران کچھ غافل ہوا، تو لومڑی نے مرغے کو گردن سے پکڑ لیا۔ اور جنگل کی طرف دوڑنے لگی۔
اب مرغے کو اپنی بے وقوفی کا اندازہ ہوا۔ اس نے سب جانوروں کو مدد کے لیے پکارا۔ لیکن کسی نے بھی اس کی پکار کو اہمیت نہیں دی۔ کیوں کہ وہ بھی کبھی ان سے بات چیت نہیں کرتا تھا۔اب وہ سوچنے لگا کہ، جو کچھ کرنا ہے مجھے ہی کرنا ہے۔ لومڑی کے چنگل سے چھٹکارا کیسے پایا جائے۔ وقت کم تھا۔ لومڑی کسی بھی وقت اس کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتی۔ اچانک اس کو ایک ترکیب سوجھی۔ وہ لومڑی سے کہنے لگا۔
“بی لومڑی، آپ مجھے لے کر دوڑ لگا رہی ہیں، تو تھک گئی ہوں گی، ایسا کرتا ہوں کہ آپ کو میں ایک کہانی سناتا ہوں، جس سے آپ کا دل بھی بہل جائے گا اور تھکن بھی کم ہوجائے گی‘‘۔
یہ کہہ کر مرغے نے کہانی سنانا شروع کر دی۔
’’ایک جنگل میں بہت بڑا سا شیر رہتا تھا۔ ایک گدھا راستہ بھٹک کر اس جنگل میں آگیا۔ وہاں کی ہری بھری اور نرم نرم گھاس دیکھ کر اس کا دل وہیں لگ گیا۔ اور وہ واپس گھر جانے کے بجائے اسی جنگل میں رہنے لگا۔ روزانہ ہری ہری گھاس کھا کھا کر خوب صحت مند ہوگیا۔ شیر روزانہ گدھے کو دیکھتا اور دل ہی دل میں اس کو کھانے کے منصوبے بنایا کرتا۔
ایک دن موقع دیکھ کر شیر نے اسے پکڑ لیا۔ اب گدھے کی عقل ٹھکانے آ گئی کہ اچھا خاصا میں اپنے مالک کمہار کے پاس رہتا تھا۔ میری اپنی بیوقوفی کی وجہ سے میری جان تو چلی جائے گی۔ اس نے شیر سے بچنے کے لیےاس سے کہا،” آپ تو جنگل کے بادشاہ ہیں۔ بادشاہ سلامت، یہ میرا فرض ہے کہ میں آپ کی خدمت کروں۔ آپ اگر چہ مجھے کھانے کا ارادہ کر ہی چکے ہیں۔ تو اپنی خواہش پوری کر لیں۔ لیکن میں بھی آپ کو خوش کرنا چاہتا ہوں۔ ایسا کیجیے کہ آپ مجھے پیچھے سے کھانا شروع کریں اور میں آپ کو گانا سناتا ہوں تاکہ آپ کھانے کے دوران موسیقی سنتے رہیں‘
شیر کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔وہ گدھے کے پیچھے کی طرف پہنچ گیا اور اس کو کھانا شروع کرنے لگا۔ اتنے میں گدھے نے اپنے پیچھے کے دونوں پیروں سے دولتی جھاڑ دی۔ شیر کے منہ پر ایسی زوردار لات پڑی کہ شیر دور جا کر گرا اور اس کا سر ایک پتھر سے ٹکرا گیا، جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگیا۔ اور گدھا سیدھا اپنے مالک کے پاس پہنچ گیا۔
یہ کہانی سنا کر مرغا کہنے لگا،”آپ ہی بتائیے کہ گدھے جیسا ذہین جانور اور کوئی ہوگا؟ کیسے اس نے اپنی عقل استعمال کر کے اپنی جان بچائی۔
گدھے کی تعریف سن کر لومڑی کو بڑا غصہ آیا۔ وہ کہنے لگی،” ارے بے وقوف ، مجھ سے زیادہ ذہین جانور کوئی ہو سکتا ہے؟
لیکن یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئی تھی کہ وہ منہ کھولےگی تو مرغا منہ سے نکل جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔ جیسے ہی لومڑی نے منہ کھولا مرغا زمین پر گر پڑا۔ اور فوراً اڑ کر ایک درخت کی شاخ پر بیٹھ گیا۔ پھر لومڑی سے کہنے لگا،’’ اب بتائیے سب سے زیادہ ذہین کون ہے گدھا، آپ یا میں؟” اس کے بعد مرغے نے سچے دل سے توبہ کرلی اور اپنا غرور چھوڑ کر سب کے ساتھ مل جل کررہے گا۔ کیوں کہ وہ یہ بات اچھی طرح سے سمجھ چکا تھا کہ سب کے ساتھ وہ محفوظ رہ سکتا ہے۔ اور اکیلے رہنے سے کوئی بھی دشمن حملہ کر سکتا ہے

Tuesday, July 28, 2020

Hazrat Lal Shahbaz Qalandar ra Aur Hinduon ka geroh | حضرت لعل شہباز قلندر اور ہندوؤں کا گروہ

حضرت لعل شہباز قلندرؒ اور ہندوؤں 
کے ایک گروہ کا ایمان اضروز واقعہ
ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭؒ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ کرامات ہیں 
ان میں ایک یہ بھی بہت مشہور ہے کہ
ﺁﭖ ﺟﺐ سیہوﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﻧﯽ ﮔﻠﻮ ﺑﻨﺪ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ - ﺍﺱ ﮔﻠﻮ ﺑﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﺗﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺮﺍﺷﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﭘﯿﻮﺳﺖ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻋﺎﺩﺕ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺁﭖ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭼﻠﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺟﮭﮑﺎ ﺋﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ -
ﮐﺴﯽ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﺮﺩﻥ ﺧﻢ ﮐﺌﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ - ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ “ ﮐﺎﻧﻮﮔﻦ ﻧﺎﻣﯽ “ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﯾﮏ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﺳﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ “ ﮐﺎﻧﻮﮔﺎ “ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻨﺪﻭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻣﻨﺪ ﺗﮭﯽ - ﺁﭖ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﻟﮑﻮﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮔھنٹوں ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ -
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﻟﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭؒ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻟﮯ ﻣﮕﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺑﯿٹھتے تھے ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﯽ 
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮨﻨﺪﻭ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﻭﺣﺸﺖ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻮﻧﯽ ﺳﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﺒﺪﺭؒ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮔﺮﯼ ، ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﮨﻨﺪﻭ ﻋﻮﺭﺕ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﺲ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺭﻓﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﭺ ﮐﺮ
ﮔﺌﯽ 
ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮨﻨﮕﺎﻣﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ - ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻻﺵ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﺍﺱ ﺑﺪﻧﺼﯿﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺭﺳﻮﻡ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ “ 
ﮐﺎﻧﻮﮔﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ “ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﯾﻮﮞ ﭼﺎﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮔﯽ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭؒ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ 
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮨﻨﺪﻭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻣﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻤﻨﺪ ﺗﮭﯽ -
ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ
“ ﻣﺠھ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﻣﺎﻧﺖ
ﮨﮯ ، ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﻮ -“
ﺍﺏ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻻﺵ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻻﺵ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ نہ سکی ﻻﺵ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻭﺯﻧﯽ ﻟﮓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ - ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﯿﺲ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﻻﺵ ﺍٹهاﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﻻﺵ ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ -
ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯﻗﻠﻨدر ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﻻﺵ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ “ -
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻟﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻻﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﯽ -
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺟﻮ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﮓ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ - ﮐﺎﭨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺗﻤﺎﻡ ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﺘﮧ ﻟﮓ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ - ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﻮﮐﮭﻼ ﺋﮯ ﺭﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ
ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﺮﺯﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﻮﮞ - ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻼﻝ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ -
“ ﺑﺎﺕ ﺛﻮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ - ﺑﺎﺕ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ “
ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ - ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ؟
ﺟﺲ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﺕ ﺁﻣﯿﺰ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ “ - ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﻭ ﺗﻢ ﺳﺐ ﺍﺳﮯ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﻭﮔﮯ ﺗﻮ ﻻﺵ ﺍﭨﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “
ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺭﺗﮭﯽ ﺍٹهنے ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ -
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺳﮩﻮﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺳﮩﻮﻥ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ -
عرس کے موقع پر جو مہندی اٹھتی ہے اس عورت کی قبر سے اٹھائی جاتی ہے اور مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی لال شہباز کی درگاہ پر آتی ہے -
حضرت لال شہباز قلندر کو دنیا سے پردہ کے ہوئے آٹھ سو سال سے زیادہ ہو گئے لیکن آپ کا فیض روحانی اب بھی جاری ہے -
آپ کی یادگاریں اب بھی تابندہ و زندہ ہیں -
ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﯾﮧ ﮐﺮﺍﻣﺎﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ “ ﮐﺎﻧﻮﮔﺎ “ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺖ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﺮ ﻣﺸﺮﻑ ﺑﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﺘﺎ ﮔﯿﺎ۔

Saturday, July 18, 2020

اندر کی حقیقت / andar ki Haqeqat

استاد نے کلاس میں داخل ہوتے ہی اپنے سب اسٹوڈنٹس سے پوچھا؛
آپ سب کی نظروں میں کونسی چیز انسان کو خوبصورت بناتی ہے؟
سب شاگردوں نے مختلف جواب دیئے
کسی نے کہا: خوبصورت آنکھیں
کسی نے کہا: خوبصورت چہرہ
کسی نے کہا: بڑا قد
کسی نے کہا: سفید رنگ
سب کے جواب سن کے استاد نے بیگ سے دو گلاس نکالے
ایک شیشے کا نہایت خوبصورت اور نفیس گلاس
ایک مٹی کا گلاس
استاد نے دونوں گلاسوں میں کوئی الگ الگ چیزیں ڈال دی اور کہا
میں نے شیشے کے گلاس میں زہر ڈالا ہے۔
اور مٹی کے گلاس پینے کا پانی۔
آپ کونسا گلاس پینا چاہتے ہیں؟
سب شاگردوں نے یک زبان ہو کر کہا: مٹی کا گلاس
استاد نے کہا
جب آپکو ان گلاسوں کی اندر کی حقیقت معلوم ہوئی تو پھر آپکی نظروں میں ان کی ظاہری خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں رہی اسی طرح ہمیں بھی انسان کی اندر سے حقیقت معلوم کرنی چاہیئے۔
کیونکہ بہت سے خوبصورت لباس ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتے۔
بہت سے خوبصورت چہرے اور جسم ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر دل حیوانات سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔

Friday, July 17, 2020

افسوس کہ تم شعہ ہو / Afsos k tum shia ho

افسوسﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ ...
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ شیعہ ﮨﻮﮞ ( ﭼﺮﺍ ﺷﯿﻌﻪ ﻫﺴﺘﻢ؟ )
ایران کے نامور مفسر قران علامہ محسن قرائتی فرماتے ہیں:
ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ سیمینار ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﺮﻧﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ جنابﻗﺮﺁﺋﺘﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺑﺎﺕ۔۔۔ !
ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳاتید ﯾﻮﯾﻨﻮﺭﺳﭩﯽ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، یونیورسٹی ﺗﮩﺮﺍﻥ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﻧﺎ
ﺟﺎﻧﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ اھل علم ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﻮﮞ،
ﮐﮩﺎ: ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﮨﯿﮟ۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔
ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ۔۔
ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﭼﮭﺎ۔۔۔ ﻭﮨﺎﺑﯽ۔۔۔۔!
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﮨﻢ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﻭ ﻣﺸﺮﮎ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﯿﻌﮧ ﺗﻮ ﺑﮭﺘﯿﺮﮮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﮯ ، ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ
ﺗﻤﺎﭼﮧ ﺗﮏ ﻧﻬﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ، ﺗﻤﺎﻡ ﮐﻔﺮ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﭘﻮﺭﯼ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﭙﮍ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻥ ﻭﮨﺎﺑﯽ
ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻧﮯ۔۔۔۔
ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﻢ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﭘﺮﻭﺍﺯ کر ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻮﺍﺋﯽ ﺟﮩﺎﺯ کرﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺑﺤﺚ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ
ﺍﻭﺭ ﺑﺲ۔۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ وہابی پروفیسرز میں ﺍﯾﮏ قرانیﺑﺤﺚ ﮐﯽ ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺗﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﺋﯿﮟ، ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔
ﺍﯾﮏ وہابی مولوی ﺗﮭﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ
ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔۔۔۔ ﺍﺣﺴﻨﺖ۔۔۔ﻣﮕﺮ ﺣﯿﻒ ( ﺍﻓﺴﻮﺱ ) ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ طے نہیں ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﮮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ اب تک ﮐﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ، ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﻧﮧ ﺷﯿﻌﻮﮞ
ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮧ ﺳﻨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ۔۔۔ ﻗﺮﺁﻥ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺭﺩ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﮯ، ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔۔۔۔
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔۔ افسوس ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ،۔۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻮ ﻣﻨﺤﺮﻑ ﮨﮯ۔۔۔ ﯾﮧ افسوس ﯾﻌﻨﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﮍﮦ ﻏﺮﻕ
ﮨﮯ، ۔۔۔ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﮭﮍﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﮞ۔۔۔
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺳﮯ ثابتﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﻮ، ۔۔
ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺟﻌﻠﯽ ﮨﻮ۔۔۔
ﺷﻌﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﺨﯿﻼﺕ
ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﺑﻠﮑﮧ آیات ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻮﮞ۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ نیچا ﮐﺮﻭﮞ، ﺑﻠﮑﮧ ﻣقصد ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺤﻘﯿﺮ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ
ﺗﺤﻘﯿﺮ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ : افسوس ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ۔۔۔
ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ طریقہ ﻫﮯ ﮐﮧ افسوس ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ ، ۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ منٹ ﻣﯿﮟ شیعہ کی حقانیت کو قران سے ثابت کروں ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﺎﮞ ﺑﻮﻟﻮ۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ۔۔۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ۔۔۔
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ۔۔۔۔
ﺟﺐ ﺗﮏ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص ) ﺗﮭﮯ ﻧﮧ ﺷﯿﻌﮧ ﺗﮭﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﯽ۔۔ ھمارے
ﺭﮨﺒﺮ ﺧﻮﺩ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺗﮭﮯ ، ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﻋﻤﻞ ﺗﮭﮯ۔۔ ﺟﺐ
ﺭﺳﻮﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻭ ﺣﺼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ،
ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻘﮧ ﮐﻮ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﺳﮯ ﻟﯿﺎ، ﻭﮦ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮩﻼﺋﮯ۔۔ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﻗﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻘﻪ ﭼﺎﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮔﻮ ﮞ ﺳﮯ ﻟﯽ۔۔۔۔
ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﺷﺎﻓﻌﯽ، ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧ، ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻦ ﺍﻧﺲ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﺳﮯ ﻓﻘﮧ ﻟﯽ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ دعوی ﭘﺮ ﺗﯿﻦ ﺁﯾﺎﺕ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺑﻄﻮﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔۔۔
ﺍﻭﻝ : ﻗﺮﺁﻥ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﯾﻄﮩﺮﮐﻢ ﺗﻄﯿﮩﺮﺍ،
ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ تمہارے ان ﭼﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ۔۔۔بلکہ جنکی ہم پیروی کرتے ہیں صرف وہ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﯾﻄﮩﺮﮐﻢ ﺗﻄﮩﯿﺮﺍ ﮐﯽ ﺁﯾﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺩﻭﻡ : ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ پہلی اسلامی صدی ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻓﻘﮧ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ امام ابوحنیفہ,مالک.,شافعی اور حنبل دوسری صدی ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ۔۔۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ صدی ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔ ﺍﻟﺴﺎﺑﻘﻮﻥ ﺍﻟﺴﺎﺑﻘﻮﻥ ﺍﻭﻟﺌﮏ ﮬﻢ ﺍﻟﻤﻘﺮﺑﻮﻥ۔۔
جو پہلے ایمان لائے وہ اللہ کے قریب ہیں.
ﺳﻮﻡ؛ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ(ﻉ ) ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔نہ تمہارے چارو.
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻘﺎﺋﺪﯾﻦ۔۔۔ ﺟﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻮﺋﮯ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺩﻟﯿﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺁﯾﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻮﮞ۔۔۔
لہذا ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺖ ﮐﮩﻨﺎ : افسوس ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ۔۔۔۔
( ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﮧ ﭘﻮﭼھا ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺩﻟﯿﻞ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺳﻨﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ )
یوں جب سب کے سامنے مذھب شیعہ ﺣﻖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﭽﺎ ﮐﮭﭻ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﻟﻮﮒ ﭼﮭﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔۔۔



ﺣ
ﺣﺠﺠﺘ

امید کا دیا ! امید کا حوصلہ


کہتے ہیں کہ جب سب کچھ ختم بھی ہو جائے تو امید کا دامن نہ چھوڑو۔۔۔
پر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ امید کا دیا آخری ہچکی لے رہا ہوتا ہے اور کچھ لوگ پھونک مار کر اُسے بھی بجھا دیتے ہیں۔۔۔
اگر ہم حوصلہ دینے والے بن جائیں اور اس امید کے خشک ہوتے دیے میں تھوڑا سا حوصلے کا تیل ڈال دیں تو اسکی لو پھر سے تیزی سے بھڑک اُٹھے گی۔۔۔جس سے آپکی اپنی زندگی بھی کئ گنا زیادہ روشن اور چمکدار ہوجائےگی۔۔
آپکا کوئی ایک جملہ، ایک مثبت قدم، ایک دوستانہ تھپکی، ایک جاندار مسکراہٹ، ایک پر عزم یقین کسی کی بجھتی ہوئ زندگی میں شدت سے منتظر ہے۔۔۔
حوصلہ دینے والے بن کر دیکھیے اللہ کی رحمت آپکے ساتھ ہوگی 


Thursday, July 16, 2020

یہودی اور مجوسی/ ناقابل فراموش واقعہ

ایک دفعہ کا زکر ہے کہ ایک غریب یہودی ایک مال دار مجوسی کا ہم سفر ہوا. مجوسی کہ پاس اونٹ اور اسباب سفر کافی مقدار میں تھا مجوسی نے یہودی سے پوچھا کہ تیرا عقیدہ اور مزہب کیا ہے
یہودی نے جواب دیا کے میرا عقیدہ یہ ہے جہاں کا ایک مالک ہے میں اس کی عبادت کرتا ہو اور اسی سے پناہ چھتا ہو جو میرے عقیدہ سے موفق ہو میں اس پر احسان کرتا ہوں اور جو میرے عقیدہ سے مخالف ہوں میں اس کا خون بہانہ جایز سمجہتا ہوں
یہودی نے مجوسی سے پوچھا تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ جواب میں مجوسی نے کہا کہ میں اپنے آپ سے اور کائنات میں تمام موجودات سے محبت کرتا ہوں
میں کسی کہ ساتھ برای نہیں کرتا ہوں میں دوست اور دشمن دونوں کہ ساتھ بہلای کرتا ہوں اگر کوئی مجھ سے برای کرے میں اس پر احسان کرتا ہوں اس کی وجہ یہی ہے کہ تمام کائنات کا خالق وہی ہے جو سب کا خالق ہے یہودی نے کہا تو بلکل جھوٹ کہہ رہا ہے میں بھی تیرے جیسا انسان ہوں جبکہ تیرے پاس اونٹ اور اسباب سفر موجود ہے اور میں پیادہ پا ہوں تو نے نہ تو اپنی خوراک میں سے مجھے کچھ دیا اور نہ اپنے اونٹ پر مجھے سوار کیا. مجوس اونٹ سے نیچہے اترا اور دسترخوان بچہایا اور یہودی کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور یہودی کی خواہش کے متابق اسے اپنی اونٹ پر سوار کیا تا کے اس کی تکھن اتر سکہے کچھ راستے تک ایک دوسرے کہ ساتھ سفر کرتے رہے اچانک یہودی نے اونٹ کو زور سے تازیانہ مارا اور اونٹ کو بگھا کر لے گیا مجوس نے اسے آواز دی کہ میں نے تمہارے ساتھ بہلائی کی اور تم مجھے بیابان میں اکیلے چھوڑ کر جا رہے ہو کیا میرے احسان کا ندلا یہی ہے لیکن مجوس کو ان باتوں کا اثر نہ ہوا یہودی نے زور سے کہا کہ میں تمہیں پہلے سے ہی بتا چکہا ہوں کہ جو بھی میرے عقیدہ کا مخالف ہوں میں اس کا خون بہانا جائیز سمجہتا ہوں
مجوس نے آسمان کی طرف روخ کرتے ہوئے کہا خدایا میں نے اس شخص کے ساتھ نیکی کی ہے اور اس نے میرے ساتھ برای کی ہے تو ہی اسے برای کا بدلا دے یہ کہہ کر وہ راستے کی طرف چل پڑا ابھی اس نے توڑا راستہ تہ کیا تھا کا اچانک دیکھا کہ اس کا اونٹ ایک طرف کہڑا ہوا ہے اور یہودی زمین پر گرا ہوا ہے یہودی کا بدن زخمی ہے اور وہ درد سے کراہ رہا ہے مجوس خوش ہوا اور وہ اپنے اونٹ کو لے کر جانے لگا یہودی کی چیخ کی پہنچ بلند ہوئی اور اس نے رو رو کر کہا اے نیکی کرنے واالا شخص تجھے احسان کا اجر مل چکھا ہے اور مجہے میرے برای کا بدلہ مل گیا ہے اب تو اپنے عقیدہ سے انحراف نہ کر اور مجھ سے نیکی کر مجھے اس بیابان میں تنہا نہ چھوڑ مجوسی کو اس پر رحم آگیا اس نے یہودی کو اونٹ پر سوار کیا اور اسے اس کی منزل مقصود پر لا کر چھوڑ دیا