Tuesday, February 9, 2021
سلطان محمود غزنوی اور درویش
Saturday, February 6, 2021
بھکاری عورت
حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کا ایمان افروز واقعہ
ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺍﺩﮨﻢ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻓﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺍﺩﮬﻢ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: پانچ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮﻭ۔ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺮﻓﺖ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ۔
ﺍﻭﻝ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺭﺯﻕ ﻣﺖ ﮐﮭﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺯﺍﻕ ﺗﻮ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﺐ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺭﺯﻕ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﺮﮮ
ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣُﻠﮏ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻭ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﻮﻻ ﺗﻤﺎﻡ ﻣُﻠﮏ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﻧﮑﻠﻮﮞ۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ۔
ﺗﯿﺴﺮﯼ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﺮ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺗﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﺐ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺯﻕ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﮮ۔
ﭼﻮﺗﮭﮯ
ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﻠﮏ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺫﺭﺍ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﮮ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﻮﻻ ﻭﮦ ﺑﮭﻼ ﻣﮩﻠﺖ ﮐﺐ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮﯾﮧ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﮯ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺳﻤﺠﮫ،
ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺯﺥ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺧﻮﺩ ﺳﻮﭺ ﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﺗﺠﮭﮯ ﺯﯾﺒﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺍﺩﮬﻢ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﭽﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
Badshah Aur Ghulam | sabaq amoz Qissa | بادشاہ اور غلام
بادشاہ اور غلام
بادشاہ سلامت کا دربار لگا ہے ۔ حاجت مند قطار اندرقطار پیش ہو رہے ہیں ۔ بادشاہ ہر ایک کی درخواست پر حاجت مند کی خواہش کے مطابق حکم صادر کررہا ہے اور ڈھیروں دعا سمیٹ رہا ہے۔ اتنے میں ایک سوداگر حاضر ہوتا ہے۔ وہ بادشاہ کی وقار اور خوشی و خوشنودی کی خاطر چند غلام اپنت ساتھ لایا ہے تاکہ بادشاہ کی خدمت گزاری کے لیے اُنہیں پیش کر سکے۔ وہ بادشاہ سے درخواست پزیر ہوتا ہے:
" بادشاہ سلامت! رب الرحمان ورحیم آپکا وقار واختیار بلند وبالا کرے! میں چند غلام آپ کے حضور پیش کرنے کے لیے لایا ہوں آپ انہیں شرف بازیابی بخشے اور جو غلام آپ پسند فرمائیں اپنی خدمت و نیازمندی کے لیے اپنے پاس رکھ لیں۔میں جانتا ہوں کہ آپ کے پاس غلاموں کی کمی نہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لیے بڑی سعادت مندی اعزاز و فخر ہوگا ۔اگر میرا پیش کردہ غلام آپکے احکامات کی بجاآوری کے لیے آپ کے دربارِ شاہی میں مامور ہوگا۔"
بادشاہ اس سوداگر کی درخواست پر زیر لب مسکراتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ:
" ہر ایک غلام کو باری باری میری خدمت میں پیش کیا جائے ۔ میں ان سے سوالات کروں گا اور جس کے جوابات سے متاثر ہوا ان کےگئے نے دربار میں رکھ لوں گا"
ہر ایک کو بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا، بادشاہ نے ہر ایک سے سوالات کیے لیکن کسی کی جواب سے مطمئن نہ ہوا ۔ بادشاہ نے سوداگر سے کہاکہ مجھے ان میں سے کوئی بھی مجھے مطمئن نہ کرسکا اس لیے اگر کوئی اور ہے تو بھیج دو اگر نہیں تو پھر انکو بھی لے جاؤ۔ بادشاہ سلامت ایک اور غلام باہر موجود تو ہے اور وہ ضد کرکے میرے ساتھ یہاں تک آیا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس اعلیٰ وارفع دربار شاہی کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے میں نے اسے اپکی خدمت میں پیش نہیں کیا، بادشاہ زوردار لہجے میں سوداگر سے کہتا ہے۔
"تم نے یہ کیسے فیصلہ کر لیا کہ وہ دربار شاہی کے قابل نہیں؟؟؟ انہیں میری خدمت میں فوراً پیش کرو۔ غلام کو بادشاہ کے روبرو پیش کیا گیا، غلام نے سرجھکائے سلام کیا۔ بادشاہ نے دوسروں کی طرح اس سے بھی نام پوچھا، غلام نے جواب دیا بادشاہ سلامت آپ کو غلام کو جس نام سے چاہیں یاد فرما لیں ، غلام تو غلام ہی رہتا ہے اس کا کوئی اور نام کیا ہوسکتا ہے ۔"
بادشاہ پوچھتا ہے اچھا بتاؤ کھانے میں تم کو کیا پسند ہے؟ غلام جواب دیتا ہے " مالک کی مرضی جو کھلا دے وہی میری پسندیدہ غزا ہوگی۔"
بادشاہ نے آخری سوال پوچھا " تمھاری کیا خواہش ہے فوراً پوری کی جائیگی ہم تمھارے جوابات سے خوش ہوئے۔"
" غلام نے کہا بادشاہ سلامت میں ایک غریب اور مفہوم حال غلام ہوں نہ اختیار اپنا نہ ارادہ اپنا۔ اس لیے مجھے کوئی حق نہیں کہ کسی خواہش اور آرزو کو دل میں جگہ دوں۔ میری کوئی بھی طلب نہیں۔"
غلام کے جوابات سن کر بادشاہ نے ایک نعرہ تکبیر بلند کیا اور بیہوش ہوگئے۔
تمام درباری جمع ہوگئے افراتفری پھیلی ہوئی تھی، حکیم طبیب بلائے گئے۔ ہر شخص فکرمند تھا۔ اور وہ سوداگر جو اس غلام کو لایا تھا ازحد متفکر ہوکر ایک سائیڈ پر بیٹھا تھا۔اور دل ہی دل میں سوچتا تھا کہ میرا اندازہ درست تھا کہ یہ غلام دربار شاہی کے قابل نہیں اور اب اس غلام کا انجام کیا ہوگا؟؟؟؟
تھوڑی دیر بعد بادشاہ ہوش میں آتا ہے اور آنکھیں کھولتا ہے تمام درباریوں کی جان میں جان آجاتی ہے مگر بادشاہ سلامت پہلی نظر جس شخص پر ڈالتا ہے وہ وہی غلام ہے ۔ بادشاہ دیکھتا ہے کہ غلام اسی طرح کھڑا تھا نہ اس کی چہرے پر کوئی اداسی نہ پریشانی۔
اب بادشاہ تھوڑے توقف کے بعد لب کشا ہوتا ہے اور خودکلامی کرتے ہوئے قابل سماعت آواز میں کہتا ہے :
" اے ابراہیم ادھم افسوس ہے تم پر بلکہ افسوس صد ہزار افسوس ہے تجھ پر ! تو بھی اپنے رب کی غلامی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن تیرا مقام اس غلام سے بھی کم تر ہے ۔حالانکہ رب قادر وقدیر نے تجھے بادشاہت جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ تجھ سے تو غلام بدرجہا بہتر ہے کہ جس نے اپنے سارے اختیارات اپنے مالک کے سپرد کر دئیے اور تو اپنے اختیارات اپنے پاس رکھتا ہے۔"
اگرچہ بادشاہ سلامت ، بلخ کے سلطان اور عظیم المرتبت حکمران ابراہیم اودھم نے اس غلام کو اپنے مقربین میں شامل کر لیا تاہم اس کے دل و دماغ پر اس غلام کے جوابات کا جو اثر ہوا وہ ناقابل بیان تھا۔
Friday, August 7, 2020
غرور کا سر نیچا۔سبق آموز کہانی۔gharoor ka sar necha
غرور کا سر نیچا
سبق آموز کہانی
Tuesday, July 28, 2020
Hazrat Lal Shahbaz Qalandar ra Aur Hinduon ka geroh | حضرت لعل شہباز قلندر اور ہندوؤں کا گروہ
حضرت لعل شہباز قلندرؒ اور ہندوؤں
کے ایک گروہ کا ایمان اضروز واقعہ
ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭؒ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ کرامات ہیں
ان میں ایک یہ بھی بہت مشہور ہے کہ
ﺁﭖ ﺟﺐ سیہوﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﻧﯽ ﮔﻠﻮ ﺑﻨﺪ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ - ﺍﺱ ﮔﻠﻮ ﺑﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﺗﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺮﺍﺷﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﭘﯿﻮﺳﺖ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻋﺎﺩﺕ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺁﭖ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭼﻠﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺟﮭﮑﺎ ﺋﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ -
ﮐﺴﯽ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﺮﺩﻥ ﺧﻢ ﮐﺌﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ - ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ “ ﮐﺎﻧﻮﮔﻦ ﻧﺎﻣﯽ “ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﯾﮏ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﺳﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ “ ﮐﺎﻧﻮﮔﺎ “ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻨﺪﻭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻣﻨﺪ ﺗﮭﯽ - ﺁﭖ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﻟﮑﻮﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮔھنٹوں ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ -
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﻟﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭؒ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻟﮯ ﻣﮕﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺑﯿٹھتے تھے ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﯽ
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮨﻨﺪﻭ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﻭﺣﺸﺖ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻮﻧﯽ ﺳﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﺒﺪﺭؒ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮔﺮﯼ ، ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﮨﻨﺪﻭ ﻋﻮﺭﺕ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﺲ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺭﻓﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﭺ ﮐﺮ
ﮔﺌﯽ
ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮨﻨﮕﺎﻣﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ - ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻻﺵ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﺍﺱ ﺑﺪﻧﺼﯿﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺭﺳﻮﻡ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ “
ﮐﺎﻧﻮﮔﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ “ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﯾﻮﮞ ﭼﺎﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮔﯽ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭؒ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮨﻨﺪﻭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻣﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻤﻨﺪ ﺗﮭﯽ -
ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ
“ ﻣﺠھ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﻣﺎﻧﺖ
ﮨﮯ ، ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﻮ -“
ﺍﺏ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻻﺵ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻻﺵ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ نہ سکی ﻻﺵ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻭﺯﻧﯽ ﻟﮓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ - ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﯿﺲ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﻻﺵ ﺍٹهاﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﻻﺵ ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ -
ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯﻗﻠﻨدر ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﻻﺵ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ “ -
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻟﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻻﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﯽ -
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺟﻮ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﮓ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ - ﮐﺎﭨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺗﻤﺎﻡ ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﺘﮧ ﻟﮓ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ - ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﻮﮐﮭﻼ ﺋﮯ ﺭﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ
ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﺮﺯﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﻮﮞ - ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻼﻝ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ -
“ ﺑﺎﺕ ﺛﻮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ - ﺑﺎﺕ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ “
ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ - ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ؟
ﺟﺲ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﺕ ﺁﻣﯿﺰ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ “ - ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﻭ ﺗﻢ ﺳﺐ ﺍﺳﮯ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﻭﮔﮯ ﺗﻮ ﻻﺵ ﺍﭨﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “
ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺭﺗﮭﯽ ﺍٹهنے ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ -
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺳﮩﻮﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺳﮩﻮﻥ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ -
عرس کے موقع پر جو مہندی اٹھتی ہے اس عورت کی قبر سے اٹھائی جاتی ہے اور مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی لال شہباز کی درگاہ پر آتی ہے -
حضرت لال شہباز قلندر کو دنیا سے پردہ کے ہوئے آٹھ سو سال سے زیادہ ہو گئے لیکن آپ کا فیض روحانی اب بھی جاری ہے -
آپ کی یادگاریں اب بھی تابندہ و زندہ ہیں -
ﺣﻀﺮﺕ ﻻﻝ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﯾﮧ ﮐﺮﺍﻣﺎﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ “ ﮐﺎﻧﻮﮔﺎ “ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺖ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﺮ ﻣﺸﺮﻑ ﺑﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﺘﺎ ﮔﯿﺎ۔
Saturday, July 18, 2020
اندر کی حقیقت / andar ki Haqeqat
آپ سب کی نظروں میں کونسی چیز انسان کو خوبصورت بناتی ہے؟
سب شاگردوں نے مختلف جواب دیئے
کسی نے کہا: خوبصورت آنکھیں
کسی نے کہا: خوبصورت چہرہ
کسی نے کہا: بڑا قد
کسی نے کہا: سفید رنگ
سب کے جواب سن کے استاد نے بیگ سے دو گلاس نکالے
ایک شیشے کا نہایت خوبصورت اور نفیس گلاس
ایک مٹی کا گلاس
استاد نے دونوں گلاسوں میں کوئی الگ الگ چیزیں ڈال دی اور کہا
میں نے شیشے کے گلاس میں زہر ڈالا ہے۔
اور مٹی کے گلاس پینے کا پانی۔
آپ کونسا گلاس پینا چاہتے ہیں؟
سب شاگردوں نے یک زبان ہو کر کہا: مٹی کا گلاس
استاد نے کہا
جب آپکو ان گلاسوں کی اندر کی حقیقت معلوم ہوئی تو پھر آپکی نظروں میں ان کی ظاہری خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں رہی اسی طرح ہمیں بھی انسان کی اندر سے حقیقت معلوم کرنی چاہیئے۔
کیونکہ بہت سے خوبصورت لباس ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتے۔
بہت سے خوبصورت چہرے اور جسم ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر دل حیوانات سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔
Friday, July 17, 2020
افسوس کہ تم شعہ ہو / Afsos k tum shia ho
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ شیعہ ﮨﻮﮞ ( ﭼﺮﺍ ﺷﯿﻌﻪ ﻫﺴﺘﻢ؟ )
ایران کے نامور مفسر قران علامہ محسن قرائتی فرماتے ہیں:
ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ سیمینار ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﺮﻧﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ جنابﻗﺮﺁﺋﺘﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺑﺎﺕ۔۔۔ !
ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳاتید ﯾﻮﯾﻨﻮﺭﺳﭩﯽ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، یونیورسٹی ﺗﮩﺮﺍﻥ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﻧﺎ
ﺟﺎﻧﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ اھل علم ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﻮﮞ،
ﮐﮩﺎ: ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﮨﯿﮟ۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔
ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ۔۔
ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﭼﮭﺎ۔۔۔ ﻭﮨﺎﺑﯽ۔۔۔۔!
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﮨﻢ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﻭ ﻣﺸﺮﮎ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﯿﻌﮧ ﺗﻮ ﺑﮭﺘﯿﺮﮮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﮯ ، ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ
ﺗﻤﺎﭼﮧ ﺗﮏ ﻧﻬﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ، ﺗﻤﺎﻡ ﮐﻔﺮ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﭘﻮﺭﯼ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﭙﮍ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻥ ﻭﮨﺎﺑﯽ
ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻧﮯ۔۔۔۔
ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﻢ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﭘﺮﻭﺍﺯ کر ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻮﺍﺋﯽ ﺟﮩﺎﺯ کرﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺑﺤﺚ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ
ﺍﻭﺭ ﺑﺲ۔۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ وہابی پروفیسرز میں ﺍﯾﮏ قرانیﺑﺤﺚ ﮐﯽ ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺗﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﺋﯿﮟ، ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔
ﺍﯾﮏ وہابی مولوی ﺗﮭﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ
ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔۔۔۔ ﺍﺣﺴﻨﺖ۔۔۔ﻣﮕﺮ ﺣﯿﻒ ( ﺍﻓﺴﻮﺱ ) ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ طے نہیں ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﮮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ اب تک ﮐﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ، ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﻧﮧ ﺷﯿﻌﻮﮞ
ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮧ ﺳﻨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ۔۔۔ ﻗﺮﺁﻥ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺭﺩ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﮯ، ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔۔۔۔
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔۔ افسوس ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ،۔۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻮ ﻣﻨﺤﺮﻑ ﮨﮯ۔۔۔ ﯾﮧ افسوس ﯾﻌﻨﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﮍﮦ ﻏﺮﻕ
ﮨﮯ، ۔۔۔ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﮭﮍﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﮞ۔۔۔
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺳﮯ ثابتﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﻮ، ۔۔
ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺟﻌﻠﯽ ﮨﻮ۔۔۔
ﺷﻌﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﺨﯿﻼﺕ
ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﺑﻠﮑﮧ آیات ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻮﮞ۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ نیچا ﮐﺮﻭﮞ، ﺑﻠﮑﮧ ﻣقصد ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺤﻘﯿﺮ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ
ﺗﺤﻘﯿﺮ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ : افسوس ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ۔۔۔
ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ طریقہ ﻫﮯ ﮐﮧ افسوس ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ ، ۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ منٹ ﻣﯿﮟ شیعہ کی حقانیت کو قران سے ثابت کروں ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﺎﮞ ﺑﻮﻟﻮ۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ۔۔۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ۔۔۔
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ۔۔۔۔
ﺟﺐ ﺗﮏ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص ) ﺗﮭﮯ ﻧﮧ ﺷﯿﻌﮧ ﺗﮭﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﯽ۔۔ ھمارے
ﺭﮨﺒﺮ ﺧﻮﺩ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺗﮭﮯ ، ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﻋﻤﻞ ﺗﮭﮯ۔۔ ﺟﺐ
ﺭﺳﻮﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻭ ﺣﺼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ،
ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻘﮧ ﮐﻮ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﺳﮯ ﻟﯿﺎ، ﻭﮦ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮩﻼﺋﮯ۔۔ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﻗﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻘﻪ ﭼﺎﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮔﻮ ﮞ ﺳﮯ ﻟﯽ۔۔۔۔
ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﺷﺎﻓﻌﯽ، ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧ، ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻦ ﺍﻧﺲ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﺳﮯ ﻓﻘﮧ ﻟﯽ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ دعوی ﭘﺮ ﺗﯿﻦ ﺁﯾﺎﺕ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺑﻄﻮﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔۔۔
ﺍﻭﻝ : ﻗﺮﺁﻥ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﯾﻄﮩﺮﮐﻢ ﺗﻄﯿﮩﺮﺍ،
ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ تمہارے ان ﭼﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ۔۔۔بلکہ جنکی ہم پیروی کرتے ہیں صرف وہ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﯾﻄﮩﺮﮐﻢ ﺗﻄﮩﯿﺮﺍ ﮐﯽ ﺁﯾﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺩﻭﻡ : ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ پہلی اسلامی صدی ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻓﻘﮧ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ امام ابوحنیفہ,مالک.,شافعی اور حنبل دوسری صدی ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ۔۔۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ صدی ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔ ﺍﻟﺴﺎﺑﻘﻮﻥ ﺍﻟﺴﺎﺑﻘﻮﻥ ﺍﻭﻟﺌﮏ ﮬﻢ ﺍﻟﻤﻘﺮﺑﻮﻥ۔۔
جو پہلے ایمان لائے وہ اللہ کے قریب ہیں.
ﺳﻮﻡ؛ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ(ﻉ ) ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔نہ تمہارے چارو.
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻘﺎﺋﺪﯾﻦ۔۔۔ ﺟﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻮﺋﮯ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺩﻟﯿﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺁﯾﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﻮﮞ۔۔۔
لہذا ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺖ ﮐﮩﻨﺎ : افسوس ﮐﮧ ﺗﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﮨﮯ۔۔۔۔
( ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﮧ ﭘﻮﭼھا ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺩﻟﯿﻞ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺳﻨﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ )
یوں جب سب کے سامنے مذھب شیعہ ﺣﻖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﭽﺎ ﮐﮭﭻ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﻟﻮﮒ ﭼﮭﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔۔۔
ﺣ
ﺣﺠﺠﺘ
امید کا دیا ! امید کا حوصلہ
Thursday, July 16, 2020
یہودی اور مجوسی/ ناقابل فراموش واقعہ
یہودی نے جواب دیا کے میرا عقیدہ یہ ہے جہاں کا ایک مالک ہے میں اس کی عبادت کرتا ہو اور اسی سے پناہ چھتا ہو جو میرے عقیدہ سے موفق ہو میں اس پر احسان کرتا ہوں اور جو میرے عقیدہ سے مخالف ہوں میں اس کا خون بہانہ جایز سمجہتا ہوں
یہودی نے مجوسی سے پوچھا تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ جواب میں مجوسی نے کہا کہ میں اپنے آپ سے اور کائنات میں تمام موجودات سے محبت کرتا ہوں
میں کسی کہ ساتھ برای نہیں کرتا ہوں میں دوست اور دشمن دونوں کہ ساتھ بہلای کرتا ہوں اگر کوئی مجھ سے برای کرے میں اس پر احسان کرتا ہوں اس کی وجہ یہی ہے کہ تمام کائنات کا خالق وہی ہے جو سب کا خالق ہے یہودی نے کہا تو بلکل جھوٹ کہہ رہا ہے میں بھی تیرے جیسا انسان ہوں جبکہ تیرے پاس اونٹ اور اسباب سفر موجود ہے اور میں پیادہ پا ہوں تو نے نہ تو اپنی خوراک میں سے مجھے کچھ دیا اور نہ اپنے اونٹ پر مجھے سوار کیا. مجوس اونٹ سے نیچہے اترا اور دسترخوان بچہایا اور یہودی کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور یہودی کی خواہش کے متابق اسے اپنی اونٹ پر سوار کیا تا کے اس کی تکھن اتر سکہے کچھ راستے تک ایک دوسرے کہ ساتھ سفر کرتے رہے اچانک یہودی نے اونٹ کو زور سے تازیانہ مارا اور اونٹ کو بگھا کر لے گیا مجوس نے اسے آواز دی کہ میں نے تمہارے ساتھ بہلائی کی اور تم مجھے بیابان میں اکیلے چھوڑ کر جا رہے ہو کیا میرے احسان کا ندلا یہی ہے لیکن مجوس کو ان باتوں کا اثر نہ ہوا یہودی نے زور سے کہا کہ میں تمہیں پہلے سے ہی بتا چکہا ہوں کہ جو بھی میرے عقیدہ کا مخالف ہوں میں اس کا خون بہانا جائیز سمجہتا ہوں
مجوس نے آسمان کی طرف روخ کرتے ہوئے کہا خدایا میں نے اس شخص کے ساتھ نیکی کی ہے اور اس نے میرے ساتھ برای کی ہے تو ہی اسے برای کا بدلا دے یہ کہہ کر وہ راستے کی طرف چل پڑا ابھی اس نے توڑا راستہ تہ کیا تھا کا اچانک دیکھا کہ اس کا اونٹ ایک طرف کہڑا ہوا ہے اور یہودی زمین پر گرا ہوا ہے یہودی کا بدن زخمی ہے اور وہ درد سے کراہ رہا ہے مجوس خوش ہوا اور وہ اپنے اونٹ کو لے کر جانے لگا یہودی کی چیخ کی پہنچ بلند ہوئی اور اس نے رو رو کر کہا اے نیکی کرنے واالا شخص تجھے احسان کا اجر مل چکھا ہے اور مجہے میرے برای کا بدلہ مل گیا ہے اب تو اپنے عقیدہ سے انحراف نہ کر اور مجھ سے نیکی کر مجھے اس بیابان میں تنہا نہ چھوڑ مجوسی کو اس پر رحم آگیا اس نے یہودی کو اونٹ پر سوار کیا اور اسے اس کی منزل مقصود پر لا کر چھوڑ دیا








